پُرامن مظاہرین پر عباس ملیشیا کا تشدد‘ 14 فلسطینی زخمی

62

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے میں مختلف شہروں میں ہونے والے پرامن مظاہرین پر فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں 14 شہری زخمی ہوگئے جب کہ کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کی شام رام اللہ، نابلس اور غرب اُردن کے دوسرے شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کردی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین پرامن تھے اور فلسطینی اتھارٹی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر صدر عباس کے ماتحت ملیشیا نے نہتے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا،
آنسوگیس کی شیلنگ کی اور دھاتی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 14 مظاہرین زخمی ہوگئے جب کہ 14 شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مظاہروں سے قبل عباس ملیشیا کی بھاری نفری نے رام اللہ اور نابلس میں ریلیوں کو روکنے کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں مگر فلسطینی شہری تمام رکاوٹیں توڑ کر سڑکوں پرآنے اور احتجاج کرنے میں کامیاب رہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے غرب اُردن میں شہری مسلسل غزہ کی پٹی کے عوام کی حمایت اور فلسطینی اتھارٹی کی غزہ کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے طاقت کے حربے استعمال کرنے کے باوجود مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں زبوں حالی کے شکار فلسطینی مریضوں کے حوالے سے اپنی سیاسی اور قومی ذمے داریاں پوری کرے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور مصر نے غزہ کی ناکا بندی کر رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے غزہ میں بجلی، ادویات، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیاہے کہ غزہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں وہ زخمیوں اور مریضوں کا علاج کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ عالمی تنظیم نے اسرائیلی حکام پر بھی زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں اور زخمیوں کو وہاں سے دوسرے علاقوں میں علاج کے لیے منتقل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے اور غزہ کے مریضوں کو دوسرے فلسطینی علاقوں میں علاج کی سہولت مہیا کرے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ 30 مارچ 2018ء کے بعد اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرشہریوں کا جانی نقصان ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے طاقت کے حربے جنگی جرائم کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 30 مارچ کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر طاقت کا استعمال کرکے 130 فلسطینیوں کو شہید اور 14 ہزار کو زخمی کرچکی ہے۔ زخمیوں میں سیکڑوں افراد اب بھی اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ علاج کی سہولیات کے فقدان اور ادیات کی قلت کے باعث غزہ میں صحت کا شعبہ بدترین بحران سے دوچار ہے۔
عباس ملیشیا ؍ تشدد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ