شام میں نئے آئین کی تیاری کے لیے مذاکرات کا آغاز آیندہ ہفتے ہوگا

30

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمایندہ خصوصی اسٹیفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ وہ شام میں ایک نئے آئین کی تیاری کے لیے صلاح مشورے کا آغاز آیند ہفتے سے کر رہے ہیں۔ ڈی مستورا کے مطابق وہ پیر اور منگل کو دمشق حکومت کے حامی ممالک روس اور ایران کے علاوہ اپوزیشن کے حامی ملک ترکی کے نمایندوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ اس کے بعد وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اردن، امریکا اور سعودی عرب کے نمایندوں کے ساتھ بھی اسی سلسلے میں صلاح مشورے کریں گے۔ واضح رہے کہ شام میں 7 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کی کوششوں کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب ایک متفقہ آئین
کی تیاریوں کی کوشش کررہے ہیں۔ اُدھر شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جنوبی حصے کے مستقبل کے حوالے سے روس کی قیادت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات چیت میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکا اور اسرائیل ہیں۔ بشار الاسد نے یہ بات العالم ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ بشار اسد کے مطابق اس وقت دو ہی آپشن موجود ہیں کہ جنوبی حصے کو فوجی کارروائی سے بازیاب کرایا جائے یا پھر مصالحتی عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کا موقف ہے کہ مصالحت کو فوقیت دینا ضروری ہے۔
شام ؍ ڈی مستورا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ