ملک میں بیلٹ بکس کے ذریعے آنیوالی تبدیلی ہی پائیدار ہوگی،سراج الحق

307
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ضلعی ذمہ داران کے اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ضلعی ذمہ داران کے اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے الیکشن 2018 ء میں کامیابی کی حکمت عملی کی تیاری کے لیے ملک بھر کے ضلعی ذمہ داران کو منصورہ طلب کرلیا ۔ ملک کے 105 اضلاع کے امیر ، نائب امیر اور سیکرٹری جنرل دو روزہ لیڈر شپ ٹریننگ ورکشاپ میں شریک ہیں۔ورکشاپ کا اہم ترین ایجنڈا 2018 ء کے انتخابات ہیں جبکہ کرپشن فری پاکستان تحریک اوراحتساب کی رفتار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کرپشن کے خلاف تحریک کا اعلان سینیٹر سراج الحق نے 4 فروری 2016 ء کو منصورہ میں پریس کانفرنس میں کیا تھا ۔ اس تحریک کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں عوام کی تائید سے غلبہ دین کی جدوجہد کر رہی ہے ہم بیلٹ بکس کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں ۔ ڈنڈے کے زور پر آنے والی تبدیلی کبھی پائیدار نہیں ہوسکتی اور جس طرح یہ تبدیلی آتی ہے اسی طرح رخصت ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک کرپشن کے ناسور کا خاتمہ نہیں ہوتا ، ملک میں حقیقی تبدیلی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ ملک پر مسلط ظلم و جبر کے نظام سے نجات کے لیے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام ستر سال سے ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں کے نرغے میں ہیں اور عام آدمی معاشی و سیاسی استحصال کا شکار ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت فرد واحد کو بچانے کے لیے عدلیہ کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے اور احتساب کے اداروں کو ڈرایا اور دھمکایاجارہاہے جو انتہائی شرمناک ہے اور جو پارٹی چار دہائیوں سے حکومت میں ہے ، اس سے اس غیر آئینی رویے کی قطعاً توقع نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کرپشن کے خاتمہ کے بجائے کرپٹ افسروں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔ صوبائی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کرپشن میں ملوث افسروں کو بچانے کے لیے کابینہ کے اجلاس کرے ۔ حکومت کو عوام نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ مجرموں کی پشت پناہی کرے ۔ حکومت کا فرض ہوتاہے کہ وہ اداروں کو کرپشن سے پاک کرے مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران کرپشن پر قابو پانے کے بجائے اسے پروموٹ کر رہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دہشت گردی خواہ کسی شکل میں ہو ، جماعت اسلامی اس کے خلاف ہے ۔ یہ دہشت گردی کوئی فرد کرے یا ادارہ ، لیکن بھارت کے کہنے پر یا امریکی دباؤ پر محب وطن قوتوں کو دہشت گرد قرار دینا اور رفاہی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے خلاف کارروائی یہ کسی صورت بھی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ۔