سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر ایک اکنامک روڈ میٹ تیار کیا جائے ، رانا بحمد افضل خان

108
وفاقی وزیر مملکت رانا افضل خان کا چارٹر آف اکنامی کے موضوع پر پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کے شرکاء کے ساتھ گروپ
وفاقی وزیر مملکت رانا افضل خان کا چارٹر آف اکنامی کے موضوع پر پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کے شرکاء کے ساتھ گروپ

اسلام آباد ( کامرس نیوز) وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و اقتصادی امور رانا محمد افضل خان نے اس بات پر زور دیاہے کہ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر ایک اکنامک روڈ میٹ تیار کرنے کی کوشش کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارٹر آف اکنامی کے موضوع پر ایک پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سسٹین ابیل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور سنٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائز کے اشتراک سے کیا۔ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے چارٹر آف اکانومی بہت ضروری ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر پاکستان کے لیے اکنامک روڈ میپ اور نیشنل اکنامک ایجنڈا تیار کرنے کی کوشش کریں تا کہ متفقہ کوششوں سے پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے راستے پر ڈالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی اگرچہ بہت غیر معمولی نہ رہی ہو لیکن اس حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے اور معیشت کے کئی شعبوں میں بہتری لائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بہتر ترقی کے لیے اکنامی آف ا سکیل اور پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ٹیکس اقدامات کے ذریعے فائلرز اور نان فائلرز میں تفریق کی ہے تا کہ لوگ فائلر بننے میں ترغیب محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں کوئی چیز خفیہ نہیں ہے اور اس کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ کیپٹل مارکیٹ میں زیادہ فعال کرداار ادا کرے اور ترسیلات زر کو پیداواری شعبے میں استعمال کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے چیمبر کی طرف سے چارٹر آف اکانومی پر پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ منعقد کرنے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس قسم کے پروگراموں کا انعقاد باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہونا چاہیے تا کہ پبلک اور پرائیویٹ شعبے متفق ہو کر معاشی پالیسیوں کو تشکیل دے سکیں۔ڈپٹی امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمدپراچہ، ممبر قومی اسمبلی اسد عمر اور عبدالرشید گوڈیل، انور سیف اللہ، آباد کے چیئرمین عارف جیوا، راولپنڈی چیمبر کے صدر زاہد لطیف خان، ہری پور چیمبر کے صدر حاجی منظور الہٰی، ویمن چیمبر کی محترمہ انیلہ فاطمہ، جہلم چیمبر کے صدر فرحان رزاق ڈار، گجرات چیمبر کے نائب صدر اور مختلف دیگر چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ا سٹیٹ بینک کی طرز پر فیڈریل بورڈ آف ریونیو کے اوپر ایک آزاد و خودمختار بورڈ تشکیل دیا جائے جو اس کے معاملات کو دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو آسان اور سادہ بنانے کے لیے اس میں فوری انقلابی اصلاحات لائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریٹ کو کم کر کے سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے جس سے ٹیکس ریونیو میں بہتری آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں چین اور پاکستان کے سرمایہ کاروں کو مساوی مواقع دیے جائیں اور سی پیک کی وجہ سے مقامی صنعت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صارفین کی مارکیٹ بنانے کی بجائے سی پیک کے ذریعے پاکستان کی مقامی صنعت کو مزید ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے سستی بجلی پیدا کرنے اور زراعت کی بہتر ترقی کے لیے ملک میں مزید ڈیم تعمیر کیے جائیں۔ایس ڈی پی آئی کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے چارٹر آف اکانومی کی اہم خصوصیات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی اور کہا کہ موجودہ اور مستقبل کی حکومتوں کو توانائی شعبے اور ٹیکس نظام میں ضروری اصلاحات لا کر ملک میں کاروباری اداروں اور ایس ایم ای شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر نجی شعبے کی استعداد کار کو بہتر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کر کے برآمداتی شعبے کے لیے اعلان کردہ مراعاتی پیکج سے بہتر استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پیداوار کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آپس میں مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراڈیکٹ سرٹیفیکیٹ کی لاگت کو کم کرنے اور چین کے صنعتی شعبے کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کے لیے نجی شعبے کو حکومتی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی لاگت کو کم کرنے اور اس کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ کسٹم کلیئرنس کے معاملات کوبہتر کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پریزینٹیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں زیر بحث لائے گئے نکات کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نجی شعبے کی مشاورت سے تمام اقتصادی پالیسیاں بنائے جس کے زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر نے پہلی مرتبہ ایس ڈی پی آئی اور سائپ کے تعاون سے چارٹر آف اکانومی کے موضوع پر ڈائیلاگ کا اہتمام کیا ہے تا کہ سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر بہتر معاشی مستقبل کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے سفارشات پیش کی جائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جن نکات پر بات چیت ہوئی ہے سیاسی جماعتیں ان کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں گی اور ان پر عمل درآمد کے لیے قوانین میں بھی ترمیم کرنے کی ضرورت پڑے تو کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید نے تمام شرکا کو ڈائیلاگ میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ میاں شوکت مسعود، دلدار عباسی، ضیا ذکریا اے ضیا اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آج کے ڈائیلاگ میں جن سفارشات کو پیش کیا گیا ہے ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سیاسی جماعتیں بھرپور ساتھ دیں گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شعبان خالد نے ڈائیلاگ میں موڈریٹر کا کردار ادا کیا۔