نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ آئندہ برس فروری میں شروع ہو گا

349

اسلام آباد،لاہور(آن لائن)وفاقی حکومت 515ارب روپے کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ آئندہ سال فروری میں شروع کرے گی جبکہ واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی(واپڈا)اس منصوبے کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔میڈیا رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل کرانے والی ایجنسی واپڈا نے ٹیرف کی ترتیب کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کو اب تک درخواست نہیں دی ۔یہ ایک ایسا عمل جس کو مکمل ہونے میں کم سے کم ایک ماہ لگ سکتا ہے اس کے لیے ابھی تک یہ طے ہی نہیں کیا جاسکا کہ آیا واپڈا ایک اتھارٹی کے تحت مختلف منصوبوں کی ذیلی تنظیموں یا نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کمپنی کے ٹیرف کے لیے درخواست دینی چاہیے،اس کے علاوہ واپڈا اور این جے سی کے درمیان توانائی کی خریداری کے معاہدے کے حوالے سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی سے معاہدے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔واپڈا یا این جے سی کے ٹیرف کی جانب سے ٹیرف کے لیے ایک الگ ریگولیٹری عمل شامل ہوتا لیکن منصوبے کے لیے نیپرا کے ٹیرف کی منظوری بنیادی ضرورت ہے تاکہ گرڈ کو یونٹس بھیجے جاسکیں۔پی پی اے کی غیر موجودگی میں نیپرا درخواست نہیں دے سکتا اور ایسی صورتحال میں اگر واپڈا ایس پی وی کی جانب سے ٹیرف کی درخواست کرتا ہے تو این جے سی کو بھی پیداواری لائننس کی ضرورت ہوگی جس کے لیے3سے 4ماہ لگ سکتے ہیں۔