پاک بھارت کشیدگی کے باجود تجارت پر پابندی نہیں،خرم دستگیر

120

وفاقی  وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا ہے  کہ  پاک  بھارت سفارتی تنائو کے باجودتجارت پر پابندی نہیںہے بھارت سے کپاس کی سالانہ 5 لاکھ گانٹھیں واہگہ بارڈر سے منگوائی جا سکتی ہیں۔اور سی پورٹ سے منگوانے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔

اس امر کا اظہار انھوں نے  جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے  ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بریفنگ کے دورا ن کیا ۔کمیٹی کا اجلاس  چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا ،بند اور بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کیلئے تجاویز پرغور ہوا۔ بھارت ،چین ،انڈونیشیا  سے خام مال منگوانے سے مقامی صنعتوںکے نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پچھلے30سالوں سے لاکھوں افراد کو روزگار فراہمی کے علاوہ ایکسپورٹس میں بھی بے بہا خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ٹیکسٹائل شعبہ کی بحالی قومی فریضہ ہے ۔حکومت کی طرف سے بہترین پیکج دینے کی اشد ضرورت ہے۔20 ارب ڈالر سے زائد ایکسپورٹس کا شعبہ کمزور حالت میں ہے۔ایف بی آر ٹیکسوں کی وجہ سے اور بنک قرضوں کیلئے ا س شعبے کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔بحالی کیلئے اس شعبے کے ذمہ داران کی بھرپور کوششوں کے باجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔سٹیٹ بنک مداخلت کر کے صنعت کاروں کو ڈیفالٹ سے نکالے۔صنعتی شعبہ، ایف بی آر، حکومت مل بیٹھ کر مشترکہ حل نکالیں۔ایف بی آر معاملات کو بہتر کرنے کیلئے اس شعبے کی مدد کرے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بھارت سے دھاگہ اور دوسرا خام مال آرہا ہے۔ لیکن بھارت سے آنے والی کپاس بندرگاہ پر روک دی گئی ہے۔ایل سی کھولنے و الے اور امپورٹ پرمٹ رکھنے والے پاکستانی کاروباری مشکلات میں ہیں۔کوئی تحریری حکم بھی موجود نہیں ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بعض بڑے پیداوار صنعتی یونٹ200 سے 300 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کر رہا تھا ویلیو ایڈڈ ،ویونگ ،سپننگ کے یونٹس بند ہونے کے قریب ہیں15ہزار ملازم فی یونٹ رکھنے والے صنعتی مالکان کے حالات برے ہیں۔تقریباً10 لاکھ اشخاص صرف پنجاب سے بے روزگار ہوئے ہیں۔ قومی فریضہ سمجھ کر صنعتی شعبے کی بحالی کیلئے سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کیلئے اجلاس منعقد کرتے رہینگے۔حکومت ،وزارت ،سٹیٹ بنک ،ایف بی آر اور پرائیویٹ بنک اورصنعتی شعبہ کو بحال کر کے ملک کیلئے بڑا کام کر جائینگے۔بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی ،بنکوں سے لئے گئے قرضوں کے معاملات کے حل اور ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اور صنعتی شعبے کی بحالی کیلئے کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں سٹیٹ بنک کراچی میں منعقد ہو گا۔دونوں اطراف سے تجاویز لے کر پائیدار حل نکلانے کا فیصلہ ہوا۔ڈی ٹی آر ای کا معاملہ ایف بی آر کو ایک ماہ میں حل کرنے کی ہدایت دی گئی اور ای سی ایل میں شامل صنعت کاروں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں۔خیبر ٹیکسٹائل او رنیشنل بنک کے درمیان معاملات آپس میں حل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔

ایپٹما کی طرف سے کہا گیا کہ ٹیکسٹائل شعبہ کیلئے مزید مراعات دی جائیں۔بنکوں نے کئی سالوں سے لاکھوں کی ایکسپورٹ کرنے والوںکے خلاف مقدمات بنا رکھے ہیں بنکوں کے قرض کی ادائیگی کیلئے حکومت ریلیف دے۔بنکوں کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت بنکوں کی سب سے بڑی نا دہندہ ہے اس وقت 196ارب روپے کی نا دہندہ ہے۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ ملک نازک دور میں ہے ہمیں صرف پاکستانی سوچ کے تحت کا م کرنا ہے ا ور مل جل کر مسائل کا حل نکالنا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری  کے لوگوں کا نام ای سی ایل میںڈالنا ذیادتی ہے۔صنعت کاروں کے اثاثے یہیں ہیں بھاگیں گے نہیں۔

وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت سے کپاس درآمد کرنے پر کوئی پابندی نہیں سالانہ بھارت سے5 لاکھ گانٹھیں واہگہ بارڈر سے منگوائی جا سکتی ہیں۔اور سی پورٹ سے منگوانے پر کوئی پابندی نہیں۔ سفارتی تنائو کے باجودتجارت پر پابندی نہیں،شعبہ ٹیکسٹائل کی مشکلات ختم کرنا چاہتے ہیں۔سہولیات دینگے مگر ناجائز استعمال روکنے کیلئے غیر ذمہ دار افراد کو الگ کرنا ہو گا۔وزیر اعظم کی توجہ صنعتی ترقی پر ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکسٹال شعبہ کیلئے نیشنل ٹیرف کمیشن کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں۔ٹیکس معاملات پر بہت ذیادہ مقدمہ بازی ہے۔جس کیلئے متبادل نظام متعارف کرایا گیا جو کامیاب نہیں ہو سکا۔ایف بی آر برآمدات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔فیصل آباد کے صنعت کاروں نے کہا کہ بند صنعتوں کو چلا لیا جائے تو10 لاکھ افراد کو روزگار ملے گا برآمدات میں4 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔