مجلس عمل کا کراچی میں ملین مارچ ،ملعونہ آسیہ کی رہائی کا فیصلہ مسترد ،آج احتجاج ہوگا

242
کراچی: متحدہ مجلس عمل کے تحت ناموس رسالت ملین مارچ سے مولانا فضل الرحمن خطاب کررہے ہیں،انس نورانی،حسین محنتی،معراج الہدیٰ صدیقی ،حافظ نعیم الرحمن ،حافظ حسین و دیگر قائدین اسٹیج پر بیٹھے ہیں
کراچی: متحدہ مجلس عمل کے تحت ناموس رسالت ملین مارچ سے مولانا فضل الرحمن خطاب کررہے ہیں،انس نورانی،حسین محنتی،معراج الہدیٰ صدیقی ،حافظ نعیم الرحمن ،حافظ حسین و دیگر قائدین اسٹیج پر بیٹھے ہیں

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)متحدہ مجلس عمل کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے آسیہ مسیح کی رہائی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ناموس رسالتؐ تحریک کو جاری رکھنے کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں ہر اسلام دشمن عمل کی نہ صرف مذمت کی جائے گی بلکہ اس کے خلاف ہر محاذ پر جدو جہد ہوگی۔ عدالت کا فیصلہ قانون اورآئین کے بجائے عالمی دباؤ پرکیا گیا ہے ۔ موجودہ حکمرانوں کو لانے کا مقصد پاکستان کی نظریاتی خود مختاری اور آزادی کو سلب کرنا ہے اور ہم نظریاتی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہم گرفتاریوں سے خوف زدہ نہیں بلکہ سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔ مولانا سمیع الحق کو شہید کر دیا گیا ہم ان کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ عدالتی فیصلے کے خلاف آج بعد نماز جمعہ ملک بھر کے ضلعی ہیڈ کواٹرز میں پر امن احتجاج کیا جائے گا۔15نومبر کو لاہور میں ملین مارچ اور 25نومبر کو سکھر میں ختم نبوت کانفرنس ہوگی ۔ متحدہ مجلس عمل کا یہ قافلہ نظریاتی جنگ آخری حد تک لڑے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو شاہراہ قائدین پر متحدہ مجلس عمل کے تحت ’’تحفظ ناموس رسالتؐملین مارچ‘‘ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے ایم ایم اے کے مرکزی نائب صدرعلامہ ساجد میر،مولانا عبد الغفور حیدری،صاحبزادہ محمد شاہ اویس نورانی ،معراج الہدیٰ صدیقی ،مولانا راشد محمود سومرو، محمد حسین محنتی ،علامہ ناظر عباس تقوی،ایم ایم اے کراچی کے صدرحافظ نعیم الرحمن،ایم ایم اے کے رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ،قاری محمد عثمان ،علامہ محمد یوسف قصوری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اتنے بے مثال مظاہرے نے سچے امتی ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ آپ نے ثابت کردیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو تبدیل نہیں کرنے دیا جائے گا ،اگر حکمرانوں نے ایسا کیا تو ان کو بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو پورے اعزاز کے ساتھ امریکا کے حوالے اور ممتاز قادری کو پھانسی دی جاتی ہے ۔ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ملعونہ آسیہ کی رہائی کا مسئلہ کسی قانون کے تحت فیصلہ دینے کا نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤپر دے کر ہماری نظریاتی و قومی آزادی اور خودمختاری سلب کی گئی ہے اورہمارے حکمرانوں نے پاکستان کی سا لمیت پر سوالیہ نشانہ لگا دیا ہے ، پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنایا جا رہا ہے ،کیا وجہ ہے کہ امریکا اور یورپ اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، ایک پوپ عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے، یہ کیسے ایک اسلامی ملک کی عدالت عظمیٰ ہے جس کے فیصلے پر امت مسلمہ مضطرب ہے اور اہل مغرب اور یہودی خوش ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کس طرح کی ریاست مدینہ قائم کرنا چاہتے ہیں اس سے اندازہ لگالیں ۔ کہتے ہیں کہ مدینے میں بھی یہودیوں سے معاہدہ کیا گیا تھا واہ یہ مثال کیا دے رہے ہیں ۔ان کو نہیں معلوم کہ جب رسول اللہ ؐ نے ریاست مدینہ قائم کی تویہودیوں کو جزیرۃ العرب سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھول جائیں کہ ہم زندہ رہیں اور پاکستان کے دفتروں پر اسرائیل کا جھنڈا لہرائے گا۔ عمران خان خطرناک ایجنڈا لے کر آئے ہیں، ملک بھر میں قادیانی نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ہم واضح طور یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کسی کا باپ بھی قانون ناموس رسالت کو ختم نہیں کر سکتا ، ہم سروں سے کفن باندھ کر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔علامہ ساجد میر نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ مذہبی کارڈ استعمال نہیں کرنے دیں گے ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ مذہبی کارڈ آپ کے پاس بھی ہے اگر آپ کے پاس یہ کارڈ نہ ہو توآپ وزیر اعظم بھی نہیں رہیں گے ۔ ہم کسی مذہبی کارڈ کے لیے نہیں بلکہ ناموس رسالتؐ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ اب ہم اس تقریب کے انتظارمیں ہیں جس تقریب میں عمران خان نے خودکشی کرنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے انصاف کا قتل کیا ہے اس فیصلے کو ہم نہیں مانتے ہیں۔صاحبزادہ محمد شاہ اویس نورانی نے کہا کہ مغرب کی دنیا کو آج کے ملین مارچ سے پیغام گیا ہے کہ وہ قوتیں جو ناموس رسالت ؐ کے قانون میں ترامیم کرنا چاہتی ہیں وہ یاد رکھیں کہ ہماری مائیں ممتاز قادری پیدا کریں گی۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مذہبی قوتیں کمزور ہو گئی ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔جب تک اس فیصلے کو واپس نہیں لیا جائے ایم ایم اے کا قافلہ جاری رہے گا۔ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ پوری ملت اسلامیہ ایک ہے ۔ اگر پاکستان میں توہین رسالت ہوئی تو اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھنے والے محفوظ نہیں رہیں گے۔ محمد حسین محنتی نے کہا کہ عالمی سازش کے تحت آسیہ کورہائی دی گئی ہے ۔ پاکستان ابھی تک آزاد نہیں ہوا ہے، آج بھی ہم مغرب کے غلام ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ آج (بروزجمعہ) آسیہ کی بریت اور اسے ملک سے باہر بھیجنے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا کہتے تھے ان کی ریاست مدینہ میں توہین رسالت کی گئی ہے ۔ہم سب برداشت کر سکتے ہیں توہین رسالت برداشت نہیں کر سکتے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تاریخی ملین مارچ کسی ذاتی مقصد یا روٹی، کپڑے اور مکان کے لیے نہیں بلکہ حضورؐ کی ناموس کے تحفظ اور آسیہ ملعونہ کی بریت کے خلاف ہے۔ آج ہم ناموس رسالتؐ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔یہ جو چھوٹا سا سیکولر طبقہ ہے اس کا پاکستانی قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آج انسانوں کا یہ سمندر اعلان کر رہا ہے کہ ناموس رسالتؐ پر حملہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جو آسیہ کا ساتھی ہوگا ہماری اس سے جنگ ہے ۔ ہماری عدالت عظمیٰ نے مغرب کے ایجنڈے کو پورا کیا ہے ۔اگر چیف جسٹس کہتے ہیں کہ تم پر توہین عدالت کامقدمہ چلائیں گے اس کے لیے ہم تیار ہیں لیکن توہین رسالت قبول نہیں ہے چاہے جتنی بار بھی توہین عدالت کا مقدمہ بنا دیں۔انہوں نے کہا کہ آسیہ کو بھیجنے کی سازش ہوئی ہے لیکن یہ تحریک رکنے والی نہیں ہے ۔ملین مارچ کے شرکا سے قاری محمد عثمان ،رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید، علامہ محمد یوسف قصوری ،مولانا عبد القیوم ہالیجوی،اشرف قریشی ،غلام غوث صابری ،علامہ غلام محمد کراروی، مولانااعجاز مصطفی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.