شرح سود میں اضافہ ،مدینہ جیسی ریاست کا خواب چکناچور کررہا ہے

214

سعودی عرب سے مالی امداد کے باجود آئی ایم ایف سے قرضوں کے ممکنہ پروگرام‘ قرضوں کی مجموعی مالیت اورپروگرام کی شرائط پر بات چیت جا ی ہے 

پاکستان کو12ماہ میں 8ارب ڈالر کے قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کر نا ہے ،آئی ایم ایف ٹیم اسلام آباد میں ایک ہفتے سے موجود ہے اور حکومتی مالیاتی منیجرز سے تفصیلی مذاکرات کر رہی ہے 

زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر اور بڑھتے ہوئے جاری کھاتے کے خسارے کے تناظر میں بڑا چیلنج ہے،وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر آئی ایم ایف کے قرضوں کے پروگرام میں جانے یا نہ جانے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا

اسٹیٹ بینک کی یہ بات ہر طرح سے سمجھ سے بالا تر ہے کہ نجی شعبے کی قرضہ گیری میں کس طرح اضافہ ہو نے کا امکان ہے

 

رپورٹ:قاضی جاوید
qazijavaid@jasarat.com
ملک بھر میں ایک مرتبہ پھرشرح کو بڑھانے کا اعلان اسٹیٹ بینک نے کر دیا ہے۔قبل ازیں جولائی میں بھی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا تھا اس طرح دو ماہ میں شرح سود میں 2فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ زری پالیسی کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ اگرچہ غیر تیل درآمدات پر کمی کے اقدامات کا اثر ہو رہا ہے، تاہم تیل کے نرخوں میں اضافہ اس بہتری کو زائل کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں جاری حسابات کا خسارہ بلند رہے گا جبکہ مہنگائی میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی شرحِ سود مزید گری ہے اورظاہر ہونے والی عالمی تبدیلیاں، خواہ وہ تیل کے نرخوں کے دھچکے ہوں،تحفظ پسند تجارتی پالیسیاں اور/یا ابھرتی ہوئی منڈیوں کو رقوم کی فراہمی میں کمی ، سب پاکستان میں اقتصادی انتظام کے لیے سخت چیلنج بنیں گی۔چنانچہ مذکورہ بالا حالیہ اور ارتقا پذیر معاشی صورت حال کی روشنی میں زری پالیسی کمیٹی کی رائے ہے کہ اقتصادی استحکام یقینی بنانے کے لیے یکجائی کی مزید کوششیں درکار ہیں، اور لہٰذا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2018ء سے اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ پالیسی ریٹ میں 100 بی پی ایس اضافہ کر کے اسے 8.5 فیصد کر دیا جائے۔یہ پوری صورتحال کو اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی نے بیان کیا ہے اور اس کا کہنا ہے شرح سود میں اضافہ ضروری ہو گیا ہے لیکن اسٹیٹ بینک یہ بھی بتایا ہے اس نجی شعبے کے قرضہ گیری میں اضافہ ہو گا ۔لیکن ایسا نہیں ہے اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے نجی شعبے کے قرضے کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ نجی شعبے کے قرضوں میں نمو کی اہم وجوہات میں توانائی کی دستیابی میں بہتری ،جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے ساتھ قدرے سازگار برآمدی طلب، گذشتہ تین برسوں میں استعداد بڑھنے کی بنا پر جاری سرمائے کی بلند ضروریات ہیں۔ اسی لیے نجی شعبے کے قرضوں کی نمو میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے لیکن مالی سال 18ء کے مقابلے میں سست رفتاری سے۔ اسی طرح مالی سال 19ء میں زری نمو 10.5 تا 11.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
یہ بات ہر طرح سے سمجھ سے بالا تر ہے کہ نجی شعبے کی قرضہ گیری میں کس طرح اضافہ ہو نے کا امکان ہے 2008 ء سے 2013ء تک ملک میں شرح سود میں اضافہ ہو ا تھا او ر اس کے نتیجہ میں ملک میں بینکوں سے قرضہ گیری اور سرمایہ کاری دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے اور ملک میں سرمایہ کا ری میں اضافہ کے لیے اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلا ن کیا تھا اور اس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھنے کے امکانا ت پیدا ہو ئے حکومت ایک جانب شرح سود میں اضافہ ک ررہی ہے اور دوسری جانب گیس کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے نتیجے میں سی این جی کی قیمت میں18روپے کلو اضافہ ہوجائیگا جس سے سی این جی کی صنعت تباہی سے دوچار ہوسکتی ہے ،سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پٹرول کے مقابلے میں سی این جی کی فروخت شدید متاثر ہوگی اور مالکان کیلئے سی این جی اسٹیشز بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔اس کے علاوہ دوسری گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔اس سے ملکی صنعت کی ترقی کیسے ممکن ہو سکے گی

اسٹیٹ بینک کا مزید کہناہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں توقع سے زیادہ بلند اضافہ ، ملکی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ، درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں مزید اضافہ اور شرح مبادلہ میں پچھلی کمی کے دورِثانی اثرات کے تسلسل کی بناء پرملک میں مزید مہنگائی کی پیش گوئی کی ہے ۔ادوسری جانب اسٹیٹ بینک کاکہنا ہے کہ گو کہ ملک میں اقتدار کی ہموار منتقلی کے بعد سیاسی بے یقینی کی صورتحال تو ختم ہو چکی ہے مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بڑے جڑواں خساروں کی بنا پر معاشی صورت حال کے بارے میں خدشات برقرار ہیں اور اس سے بلند حقیقی معاشی نمو کی پائیداری متاثر ہونے کا امکان ہے ۔اس لئے اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی یکم اکتوبر 2018ء سے اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ پالیسی ریٹ میں 100 بی پی ایس اضافہ کر کے اسے 8.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ساری صورتحال2013ء میں برسر اقتدار آنے حکومت نیبھی کیا تھالیکن اس باوجو دنواز حکومت نے شرح سود کو کم کر کے ملک میں سرمایہ کای کو فروغ دیا اوراس سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو لیکن شرح سود اور یوٹیلیٹی میں اضافہ سے سرمایہ کاری میں کمی کے خدشات بڑھ جائیں گے۔اس لیے حکومت کو اس جا نب توجہ دینا چاہیے ۔جہاں تک تعلق ہے اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا تو اس کو دیکھ کر احسان ہو رہا ہے کہ وہ 2008ء کی کمیٹی کی طرح شرح سود میں اضافہ کو ہی ملک کی ترقی سمجھ رہی ہے ۔جولائی میں گورنر اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی کی پر یس کانفرنس میں کہا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی شرح سود میں 2فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا تھا۔
اسٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ ہفتہ کو جاری زری پالیسی بیان میں کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً مارچ 2018ء سے ۔ اب تک مالی سال 19ء کے ابتدائی دو مہینوں میں عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی (CPI) 5.8 فیصد کی اوسط سطح پر رہی ہے جبکہ مالی سال 18ء کی اسی مدت میں یہ 3.2 فیصد اور پورے مالی سال 18ء میں اس کی اوسط 3.9 فیصد تھی۔ حتیٰ کہ یہ اضافہ معیشت میں مہنگائی کے مخفی دباؤکی عکاسی کرنے والے پیمانے قوزی مہنگائی میں اور بھی زیادہ نمایاں ہے۔مالی سال 19ء کے لیے اسٹیٹ بینک کی مہنگائی کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط عمومی مہنگائی 6.5 تا 7.5 فیصد کی بالائی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے ۔بینک دولت پاکستان کے مطابق مالی سال 18ء میں 5.8 فیصد کی صحت مند نمو کے بعد امکان ہے کہ مالی سال 19ء میں معاشی سرگرمی کچھ سست رہے گی کیونکہ عمومی معاشی پالیسی میں توجہ استحکام پر مرکوز کی جار ہی ہے۔ خصوصاً جنوری 2018ء سے اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں 175 بی پی ایس اضافے کی ترسیل کے اثرات ابھی مرتب ہو رہے ہیں۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ جنوری 2018ء سے اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں 175 بی پی ایس اضافے نے ملک میں سال گزشتہ اشیاء کے بھاؤ میں جو کمی کی تھی اس کو روں سال اضافہ میں تبدیل کر دیا جائے اور آئندہ ایک سال میں مزید مہنگا ئی کا خدشہ ہے اور اگر اسٹیٹ بینک سے اسی طرح شرح سود میں اضافہ جا ری رکھا رتو ملک میں ایک مر تبہ پھر مہنگائی میں اضافہ ک اکا خدشہ ہے اور اس کو کوئی نہیں روک سکتا
اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری حسابات کا خسارہ بدستور چیلنج بنا ہوا ہے۔ مالی سال 19ء کے ابتدائی دو مہینوں میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں حوصلہ افز ا نمو کے باوجود تیل کی درآمدات میں قابل ذکر اضافے کی بنا پر جاری کھاتے کا خسارہ 2.7 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ برس کم ہوتی ہوئی نان آئل درآمدات کی وجہ سے اسی مدت میں 2.5 ارب ڈالر تھا۔ ان پیش رفتوں کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے ذرمبادلہ کے ذخائر 19 ستمبر 2018ء کو کم ہو کر 9.0 ارب ڈالر پر آگئے جو م س 18ء کے اختتام پر 9.8 ارب ڈالر تھے۔ابھی بیرونی قرضوں کی ادئیگی جارہی ہے اور

پاکستان کورواں مالی سال2018-19 میں مجموعی طور پر8ارب ڈالر کے قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگیاں کرنی ہیں جوزرمبادلہ کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر اور بڑھتے ہوئے جاری کھاتے کے خسارے کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ نئی حکومت کے قیام کوایک ماہ ہوگیا اور وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر نے تاحال اس بارے میں اپنی حکمت عملی اور روڈ میپ سے آگاہ نہیں کیا۔انٹرنیشنل مانٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے پروگرام میں جانے یا نہ جانے کے بارے میں بھی اسدعمر نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جبکہ انہوں نے کہاتھا کہ وہ اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے مالیاتی منیجرز کو سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کاانتظار ہے جو اسلام آباد پہنچا ہے ۔ سعودی وفد سے ہونے والے مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے جس کے نتیجے میں حکومت اپنی واضح سمت کاتعین کرسکے گی۔ دریں اثنا گزشتہ جمعرات کوآئی ایم ایف کی ٹیم ہیراٹوفنگر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ آئی ایم ایف ٹیم اسلام آباد میں اپنے ایک ہفتے کے قیام میں حکومتی مالیاتی منیجرز سے تفصیلی مذاکرات کرے گی۔ مذاکرات اگلے ہفتے کے وسط تک جای رہنے کاامکان ہے۔ مالیاتی واقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ ایسا لگتاہے کہ حکومتی منیجرز نے دوست ممالک‘ سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارت اور چین سے مدد کی استدعا کردی ہے اوراب انہیں نتائج کاانتظار ہے کہ کس ملک سے کتنی رقم مل سکتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر آئی ایم ایف کے قرضوں کے پروگرام میں جانے یا نہ جانے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی منیجر آئی ایم ایف کی ٹیم سے اسلام آباد میں بریفنگ اجلاسوں میں قرضوں کے ممکنہ پروگرام‘ قرضوں کی مجموعی مالیت اورپروگرام کی شرائط پر بھی بات چیت کریں گے اور ۔ کیونکہ امریکا کاپاکستان سے سخت رویہ تبدیل ہورہاہے۔ شاید ٹرمپ انتظامیہ کواحساس ہوگیاہے کہ پاکستان کے کولیشن سپورٹ فنڈ کے واجب الادا30کروڑ ڈالر روکنا ان کی بڑی غلطی تھی۔ ایک جانب اسٹیٹ بینک اور دوسرے مالیاتی منیجرز کا سودی معیشت کا حکومتی مالیاتی اداروں پر قبضہ اوردوسری جانب حکومت کا یہ دعویٰ ہے وہ ملک میں مدینہ جیسی ریاست بنانے کا مشکل کام کر نا چاہتی ہے۔ لیکن شرح سود میں اضافہ عمران خان کے مخالف حکومتی مالیاتی منیجرز کوہر گز پسند نہیں ہے ۔اسی لیے حکومتی مالیاتی منیجرز سے جولائی سے ہی کمر کس لی ہے اور جولائی سے شرح سود میں اضافہ کیا جارہا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ دو ماہ میں شرح سود کو 10فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس پوری صورتحال سے یہ بات واضع ہو رہی ہے کہ 2023ء تک جب عمران حکو مت کا دور ختم ہو گا اس وقت تک ملک میں معاشی ابتری کا سلسلہ جاری رہے گا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com