گھریلو آرائش

83

 

 

’’اپنے چھوٹے سے کمرے کو بڑا اور کشادہ بنائیں۔‘‘
اگرچہ کہ بیشتر گھر آج کل بڑے اور کشادہ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ان میںکمرے کافی چھوٹے رکھے جاتے ہیں۔ اس سے بھی چھوٹے جتنے کہ ہم پسند کرتے ہیں یا جن کی ہمیں خواہش ہوتی ہے۔ چھوٹے کمروں میں اکثر بے آرامی، بے سکونی اور الجھن سی محسوس ہوسکتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ہر چیز آپ کے منہ کو آ رہی ہے تاہم خوش قسمتی سے ہم چاہیں تو ایسا ماحول پیدا کرسکتے ہیں کہ چھوٹے کمرے بھی بڑے محسوس ہوتے ہیں اگر آپ چاہیں تو ان کم خرچ ڈیکوریٹنگ تراکیب کو آزما کر اپنے کمروں کو کم از کم دیکھنے کی حد تک کشادہ کرسکتی ہیں، ہمیشہ کمرے کی دیواروں پر ہلکا رنگ استعمال کریں۔ ہلکے اور شفاف رنگ کی دیواریں زیادہ انعکاس رکھتی ہیں جو قدرتی روشنی کے اثرات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ کمرے میں ہلکے رنگ جیسے ہلکا سبز، کریم یا آسمانی رنگ کرا لیں جو آنکھوں کو بھلا لگے گا۔ دیواروں پر وال پیپر لگاتے وقت خیال رہے کہ ٹھوس رنگ ہی محفوظ ہوتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے پیٹرن ہوں تو بہت اچھا رہے گا۔
کمرے میں موجود آئینے سے بھی بہت اچھا تاثر ابھارا جاسکتا ہے اور ایک بڑے سائز کا آئنہ روشنی کو پورے کمرے میں منعکس کرتا ہے۔ ایسے کیبنٹ جن میں شیشہ لگا ہو یا جن کے دروازے شیشے کے ہوں کمرے کے رقبے کو غیر محسوس طریقے سے بڑھا دیتے ہیں۔ فرنیچر کو مختلف زاویوں سے رکھنا بھی کشادگی کا احساس بڑھاتا ہے۔ کمرے میں موجود بڑے سائز کے فرنیچر آئٹم کو ایک خاص زاویہ دیں اور کسی چھوٹے فرنیچر آئٹم کو بقیہ جگہ میں اس طرح کھپایا جائے کہ برا محسوس نہ ہو۔ چھوٹے کمروں کے لیے ضروری ہے فرنیچر کی پیمائش کا خاص خیال رکھا جائے اس لیے چوڑائی میں پتلے کیبنٹ اور سائڈ بورڈ بنوائے جائیں۔ عام صوفوں کی جگہ چھوٹے صوفے یا غلاف دار کرسی کا استعمال بہتر رہتا ہے جو کہ زیادہ جگہ نہیں گھیرتی ہیں ایسے ان گنت ڈیلر ہیں جو فلیٹ یا اپارٹمنٹ کے لیے خاص طور پر فرنیچر تیار کرکے فروخت کرتے ہیں جو کہ قدرے کم سائز کا ہوتا ہے، کم جگہ گھیرتا ہے مگر خوبصورت لگتا ہے۔ جب کمرے میں فرنیچر رکھیں تو اس بات کا خیال رہے کہ داخل ہوتے ہی نگاہوں کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ آئے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب بڑی اور لمبی فرنشنگ اشیاء کو کمرے کے آخر میں اس جگہ رکھا جائے جو کہ داخلی دروازے کی مخالف سمت ہو۔ ذرا ان ترکیبوں کو آزما کر دیکھیں پھر اندازہ لگائیں کہ آپ چھوٹا سا کمرہ قدرے بڑا لگنے لگا ہے یا نہیں؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ