پاکستان کو12ماہ میں 8ارب ڈالر کے قرضوں کی اقساط و سود کی اداکر نا ہے 

339

 حکومت کو سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کاانتظار ہے جواکتوبرکے پہلے ہفتے میں اسلام آباد پہنچے گا,ذرائع 

 

کراچی:حکومت کورواں مالی سال2018-19 میں مجموعی طور پر8ارب ڈالر کے قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگیاں کرنی ہیں جوزرمبادلہ کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر اور بڑھتے ہوئے جاری کھاتے کے خسارے کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

نئی حکومت کے قیام کوایک ماہ ہوگیا اور وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر نے تاحال اس بارے میں اپنی حکمت عملی اور روڈ میپ سے آگاہ نہیں کیا۔انٹرنیشنل مانٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے پروگرام میں جانے یا نہ جانے کے بارے میں بھی اسدعمر نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جبکہ انہوں نے کہاتھا کہ وہ اس بارے میں ستمبر2018 کے آخر میں فیصلہ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے مالیاتی منیجرز کو سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کاانتظار ہے جواکتوبر2018کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد پہنچے گا۔ سعودی وفد سے ہونے والے مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے جس کے نتیجے میں حکومت اپنی واضح سمت کاتعین کرسکے گی۔

دریں اثناجمعرات کوآئی ایم ایف کی ٹیم ہیراٹوفنگر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ آئی ایم ایف ٹیم اسلام آباد میں اپنے ایک ہفتے کے قیام میں حکومتی مالیاتی منیجرز سے تفصیلی مذاکرات کرے گی۔ مذاکرات اگلے ہفتے کے وسط تک جای رہنے کاامکان ہے۔ مالیاتی واقتصادی ماہرین کاکہناہے

ایسا لگتاہے کہ حکومتی منیجرز نے دوست ممالک‘ سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارت اور چین سے مدد کی استدعا کردی ہے اوراب انہیں نتائج کاانتظار ہے کہ کس ملک سے کتنی رقم مل سکتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر آئی ایم ایف کے قرضوں کے پروگرام میں جانے یا نہ جانے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

-انہوں نے کہا کہ حکومتی منیجر آئی ایم ایف کی ٹیم سے اسلام آباد میں بریفنگ اجلاسوں میں قرضوں کے ممکنہ پروگرام‘ قرضوں کی مجموعی مالیت اورپروگرام کی شرائط پر بھی بات چیت کریں گے۔ کیونکہ امریکہ کاپاکستان سے سخت رویہ تبدیل ہورہاہے۔ شاید ٹرمپ انتظامیہ کواحساس ہوگیاہے کہ پاکستان کے کولیشن سپورٹ فنڈ کے واجب الادا30کروڑ ڈالر روکنا ان کی بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسدعمر نے اس معاملے میں عجلت نہ کرکے دانشمندی کاثبوت دیاہے۔ اگرچہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر ساڑھے9ارب ڈالر سے نیچے آچکے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اسدعمر آئی ایم ایف کے پاس جانے میں بیتاب دکھائی نہیں دیتے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com