افغانستان اور شام کاموازنہ

202

امریکی تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ امریکا کے زیر قبضہ افغانستان رواں برس شام سے بدتر ہو سکتا ہے۔ خودکش دھماکوں، سیکورٹی فورسز پر حملوں اور غزنی پر طالبان کے قبضے کے بعد جنگ زدہ ملک کے حالات مزید ہولناک ہو سکتے ہیں۔ امریکی ادارہ برائے امن کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی پالیسی سابق امریکی صدورسے زیادہ خطرناک ہے، طالبان مضبوط اور اتحادی کمزور ہوئے۔ یہ تجزیہ اور امریکی ادارے کی رپورٹ افغانستان میں امریکی ناکامی کی شرمناک داستان ہے۔ امریکا اپنے صلیبی اتحادیوں کی فوج کے ساتھ 17 برس سے افغانستان پر قابض ہے اور اس عرصے میں اسے افغان مجاہدین کے خلاف ذرا بھی کامیابی نہیں مل سکی۔ اربوں، کھربوں ڈالروں کے اخراجات اور ہزاروں امریکیوں کی لاشیں اٹھانے کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کے حالات شام سے بدتر ہو سکتے ہیں۔ لیکن افغان حریت پسندوں کے پاس کھونے کو کچھ نہیں رہا۔ وہ پہلے بھی معاشی طور پر مضبوط نہیں تھے اور امریکا و ناٹو افواج کے مقابلے میں ان کے پاس جنگی وسائل بھی نہیں تھے لیکن وہ قابض فوجوں کے خلاف بھرپور جذبے کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ وہ موت سے نہیں ڈرتے اور یہی وہ جذبہ ہے جسے علامہ اقبالؒ نے شیطان کے منہ سے ’’روح محمدؐ‘‘ کہلوایا ہے کہ اسے مجاہدین کے بدن سے نکال دینا چاہیے۔ شیطان کے پیرو کار عرصے سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ امریکا اور اس کے حواریوں کے پاس کوئی ایک جواز نہیں کہ وہ افغانستان پر قابض رہیں۔ غیر ملکی قابض فوج سے نبرد آزمائی کی اجازت اقوام متحدہ کا قانون بھی دیتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی نے یورپ کے کئی ممالک پر قبضہ کر لیا تھا تو اسی قانون کے تحت مقبوضہ ممالک کے عوام کو مزاحمت کا حق دیا گیا تھا۔ یہی حق مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی استعمال کر رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ خاموش ہے کیونکہ وہ خود امریکی مقبوضہ ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اقوام متحدہ خاموش ہے۔ امریکا خود طالبان سے خفیہ مذاکرات کررہا ہے اس کے ساتھ ہی پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے جنہیں امریکا دہشت گرد قرار دیتا ہے اور انہی ’’دہشت گردوں‘‘ سے وہ مذاکرات بھی کر رہا ہے حالانکہ پاکستان کی حکومتیں اور عسکری قیادت عالمی دہشت گرد امریکا کی معاونت کرتے رہے ہیں اور اسے افغان مسلمانوں کے قتل عام کے لیے تمام سہولتیں فراہم کی ہیں اس کے باوجود امریکا راضی نہیں ہو رہا۔ جب اللہ کے سوا اس کی مخلوق کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے تو یہی ہوتا ہے۔ امریکا افغانستان میں بھارت کو اہم کردار ادا کرنے کی تیاری کررہا ہے جس پر پاکستان نے اعتراض تو کیا ہے مگر امریکا بھارت کو علاقے کی تھانیداری دینے پر تلا ہوا ہے۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ،جن کا تعلق شمالی اتحاد سے ہے، کہا ہے کہ افغانستان میں بھارتی فوج بلانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ لیکن بھارتی فوجی افغان فوجیوں کو تربیت تو دے رہے ہیں۔ شمالی اتحاد وہ ہے جس نے افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ پاکستان نے شمالی اتحاد کو افغانستان کی حکومت میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی لیکن اس کی نہیں سنی گئی۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر ہر صورت میں حکومت میں آنا چاہتے ہیں، یہ کسی بھی ملک کے وفادار نہیں ہوتے، پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو یہ سبق یاد کر لینا چاہیے۔ اصولاً تو ان کی بات صحیح ہے لیکن اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کون سے ہیں اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ 1979ء سے اب تک روس اور امریکا کی مدد سے اب تک کون کون کابل حکومت پر قابض رہا ہے۔ قابض غیر ملکی طاقت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو انتہا پسند قرار نہیں دیا جاسکتا جو اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہوں۔ عبداللہ عبداللہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو چیلنج قرار دیا ہے جس سے ان کے مطابق مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان میں امن کے لیے افغانستان میں امن لازمی ہے اور اس کے لیے وہ متعدد کوششیں بھی کر چکا ہے۔ اب بھی نئی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا کیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے تمام کوششوں کو امریکا سبوتاژ کرتا رہا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر دونوں برادر مسلم ممالک کے تعلقات بہترنہیں ہو سکتے۔ امریکا ہی کی فرمائش پر پاکستان طالبان سے مذاکرات کرنے اور انہیں میز پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم طالبان کا بڑا سادہ سا مطالبہ ہے کہ امریکا ان کے ملک سے نکل جائے۔ پاکستان کے کچھ امریکا نواز تجزیہ نگار یہ کہہ کر ڈرا رہے ہیں کہ امریکا افغانستان سے نکل گیا تو پھر طالبان قابض ہو جائیں گے۔ پھر کیا تکلیف ہے؟ کیا وہ پہلے بھی حکومت میں نہیں رہے اور ان کے دور اقتدار میں افغانستان کے حالات بہت بہتر رہے ہیں۔ کیا کسی ملک کی اکثریت کو اپنے ملک پر حکومت کرنے کا حق نہیں؟ امریکی رپورٹ میں افغانستان کا موازنہ شام سے کیا گیا ہے۔ لیکن شام جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں بھی امریکا اور روس کا سب سے بڑا کردار ہے جواب اپنی جنگ شام میں لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل اور ایران بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ امریکا نے یہ شرط لگائی ہے کہ شام بہتر تعلقات کے لیے ایران سے روابط ختم کرے۔ یہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی پالیسی ہے۔ امریکا کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ دو ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے شرائط عاید کرے۔ عالم اسلام میں اگر کچھ دم ہوتا تو وہ امریکا سے روابط ختم کرنے کی شرط لگاتا مگر وہ جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہا ہے۔a

Print Friendly, PDF & Email
حصہ