بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں 53 ہزاراسامیاں خالی ہونیکا انکشاف

32

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں میں 53 ہزار سے زائد نشستیں خالی ہیں جبکہ 28000 سے زائد اسامیوں پر فوری بھرتی کی ضرورت ہے لیکن الیکشن کی وجہ سے بھرتیوں کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔ کمیٹی نے آئیسکو میں حالیہ 1207 بھرتیوں میں سندھ کا ایک بھی ملازم نہ بھرتی کرنے پر برہمی کا اظہار کیا، کیسکو حکام نے اعتراف کیا
کہ صرف لاہورمیں 5 بجلی ٹرانسفارمر ریڈی کرنے کی ورکشاپ ہیں جوماہانہ کروڑوں روپے کما رہی ہیں۔ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ حکام کی ملی بھگت سے ان ورکشاپس میں ماہانہ کئی سو ٹرانسفارمر ٹھیک کرتے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین کمیٹی سینیٹ فدا محمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا کمیٹی کو بتایا گیا کہ واپڈا فاؤنڈیشن کے تحت لاہور شالیمار میں ورکشاپ میں 350 سکھر ورکشاپ میں 175 اور نوشہرہ ورکشاپ میں ماہانہ 380 ٹرانسفارمر مرمت ہوتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان ورکشاپوں میں بڑے پیمانے پر خورد برد ہوتی ہے لیکن اب یہ کام نہیں چلے گا جو لوگ بھی کرپشن میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ کے الیکٹرک سے پورا کراچی تنگ ہے ان کی کارکردگی صفر ہے کے الیکٹرک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ2 سال میں 4 ہزار پی ایم ٹی لگائی گئی ہیں، 1760 فیڈرز میں سے 1200 فیڈرز لوڈ شیڈنگ فری ہیں جس پر کمیٹی نے کہا کہ 25 ہزار کی جگہ صرف 5000 بی ٹی یومیہ آئل نااہلی ہے۔
نشستیں خالی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ