سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس : ایس ایس پی طارق عزیز کا گلو بٹ کو پہچاننے سے انکار

50

لاہور(نمائندہ جسارت)سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں ایس ایس پی ڈسپلن اور سانحہ کے ملزم طارق عزیز پر شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کے وکلا کی طرف سے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں مسلسل تیسرے روز جرح جاری رہی، عوامی تحریک کے وکلانے کمرہ عدالت میں وڈیو کلپس چلائے جس میں ایس پی طارق عزیز، ڈی آئی جی رانا عبدالجبار ماڈل ٹاؤن میں سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور ادارہ منہاج القرآن کے بالمقابل پارک میں گن مینوں اور پولیس کی
بھاری نفری کے ہمراہ موجود تھے اور پولیس نہتے کارکنان پر سیدھی فائرنگ کرتی اور کارکنوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانا بناتی نظر آتی ہے،عوامی تحریک کے وکلا نے طارق عزیز کو ایک موقع پر ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کی موومنٹ دکھائی اور ان سے سوال کیا کہ کیا آپ اس شخص کو جانتے ہیں؟ جس پر طارق عزیز نے انکار کر دیا کہ میں انہیں نہیں جانتا،اس پر عدالت میں سب مسکرانا شروع ہو گئے، طارق عزیز نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ وہ جس گراؤنڈ میں کھڑے ہیں وہ ادارہ منہاج القرآن کے سامنے پارک کی جگہ ہے۔ طارق عزیز نے گلو بٹ کی شناخت سے بھی انکارکردیا، جس پر مستغیث جواد حامد نے کہا کہ یہ وہی گلو بٹ ہیں جنہیں آپ نے شاباش دی اورگلے سے لگایا ۔وڈیو میں ایک موقع پر پولیس کی بھاری نفری اللہ اکبر کے نعرے لگاتی نظر آتی ہے، جس پر رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس والوں کو قتل عام کا جو ٹاسک ملا تھا اسے مکمل کرنے کے بعد یہ خوشی کااظہار کررہے ہیں، ایس ایس پی ڈسپلن طارق عزیز جو 17 جون 2014 ء کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے موقع پر ایس پی ماڈل ٹاؤن تھے اور استغاثہ کے مطابق انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر کھڑی شازیہ مرتضیٰ پر فائرنگ کرنے کا حکم دیا،یہ فائرنگ ان کے گارڈ نثار نے کی۔ سماعت کے بعد مستغیث جواد حامد نے کہا کہ سینئر افسران عدالت کے روبرو مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں اور ناقابل تردید شواہد کو بھی جھٹلا کر عدالت سے تعاون کرنے کے بجائے دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کے پاس اپنے دفاع کے لیے کہنے کو کچھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سانحہ کے مرکزی ملزمان نواز شریف، شہباز شریف ،رانا ثنا اللہ اور حواریوں کی طلبی کے بھی منتظر ہیں، ان کی طلبی کے لیے لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کررکھا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ