جہیز ایک لعنت

72

 

اسپتال کے ایک کمرے میں بستر پر لیٹا وجود جو ڈرپ اور تاروں میں جکڑا ہوا تھا کون تھا جو اسے اس کا گناہ بتاتا جس کے بدلے اسے اتنی بڑی سزا ملی ۔
اسپتال کے برن وارڈ میں اپنی زندگی کے آخرے گھنٹے گزارتی ملیحہ جس کا جسم مکمل طور پر جھلس چکا تھا اس کا جسم صرف خون آلود اور پیپ کا ڈھیر رہ گیا تھا ۔ جہاں چند گھنٹوں پہلے باریک ناک ، ملائم گال ، دراز خمدار پلکیں ، لمبے سیاہ بال موجود تھے ۔ جس پر وہ بہت ناز کرتی تھی ۔ اب وہاں سوائے آبلے خون، پیپ، جھلسی ہوئی جل کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ۔ اس کے چہرے کے سارے نقوش مسخ ہو چکے تھے ۔
اس کا قصور کیا تھا صرف وہ ہی جانتی تھی ۔ لیکن باوجود کوشش کے وہ کچھ نہ بول پائی ۔ اس کے دماغ میں بہت سے سوالوں نے جنم لینا شروع کر دیا تھا ۔ اسپتال کی چھت کو گھورتی اپنے سوالوں کا جواب ہی تلاش کر رہی تھی کہ اس نے اپنے بستر سے کچھ فاصلے پرکھڑے ڈاکٹر کو کچھ کہتے سنا’’ یہ اگلے دو گھنٹوں میں مر جائیں گی ‘‘۔ وہ صرف اتنا ہی سن پائی کہ اسے رونے دھونے کی کچھ مانوس آوازیں سنائی دیں ۔ وہ آواز تھی اس کے باپ کی ۔ وہ آواز تھی اس کی ماں کی ۔جس نے اسے نوماہ تک پیٹ میں پالا ۔ اور اکیس برس تک اس کی پرورش کی ۔ آخر وہ کیسے اپنے لخت جگر کو اس حال میں دیکھ سکتی تھی ۔ جن نرم و ملائم بالوں پر وہ ہاتھ پھیرا کرتی تھی وہاں جھلسی ہوئی جلد کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اور جو ڈاکٹر نے کہا ۔ وہ خبر کسی پہاڑ کی طرح ان پر ٹوٹ پڑی ۔ لیکن وہ پھر بھی بستر کے پاس کھڑی ہو کر اس کی سانسیں گن رہی تھی ۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ مر جائے!!! کیونکہ وہ ماں ہے ۔ وہ بھلا اپنی اولاد کو کیسے اذیت میں دیکھ سکتی ہے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ ملیحہ کو اس اذیت سے چھٹکارا ملے ۔ ارے حلیمہ! سنتی ہو ملیحہ کے شوہر اور ساس نے مل کر اسے جلا ڈالا ۔
حلیمہ جہاں تھی وہیں کی وہیں رُک گئی ۔ شاہدہ اس کی آنکھوں کے سامنے اخبار لہرا رہی تھی جس میں کچھ جملے وہ واضح طور پر پڑھ سکتی تھی ۔
’’سسرال کے ہاتھوں بہو کا قتل…‘‘
’’جوان لڑکی کھانا پکاتے ہوئے جل گئی …‘‘
دیکھ رہی ہو کیا لکھا ہے اخبار میں… بھئی میں تو پہلے سے کہتی آ رہی تھی کہ ملیحہ کی ساس کے ارادے نیک نہیں ہیں لیکن میری کون سنتا ہے ۔ حلیمہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس خبر کی سرخیوں پرنظر جمائے ہوئے تھی ۔ اور زبان… زبان جیسے حرکت کرنا بھول گئی تھی … ملیحہ اس کی دوست… آخر… یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟
ملیحہ… ملیحہ… بھئی جلدی کرو دیر ہو رہی ہے ’’ آرہی ہوں‘‘ ملیحہ کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی ۔ چند لمحے گزرنے کے بعد سلک کی سیاہ رنگ کی لانگ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس بال کندھے پر پھیلائے ہلکا میک اپ کیے ملیحہ نمو دار ہوئی وہ پچھلے دو سالوںمیں اتنی خوبصورت نہیں لگی جتنی آج لگ رہی تھی ۔ اور کیوں نہ لگتی ۔ شادی کے دو سال بعد آخر کار سجاد نے اس سے اپنے رویے کی معافی جو مانگ لی تھی ۔
انیس سال کی عمر میں جب وہ سجاد سے نکاح کے بندھن میں بندھ گئی تھی تو کئی خواب وہ اپنی آنکھوں میں لے کر آئی تھی ۔ ہر لڑکی یہی کرتی ہے ۔ ملیحہ میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی ۔ خوبصورتی ،ا خلاق ،ایثار سلیقہ ۔
کمی تھی تو صرف اس کے جہیز میں ۔ کمی تھی ۔ ٹی وی کی ۔ اے سی کی گاڑی کی ۔ وی سی آر کی ۔
ملیحہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔
ساس سسر کی طعنہ زنی شوہر کی بے رُخی اس کے تلخ اور زہریلے الفاظ۔
لیکن اس نے سب برداشت کیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب بد تر ہوتا گیا ۔ لیکن پھر بھی ملیحہ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑاآج وہ خوش تھی کیونکہ اسے صبر کا پھل ملا تھا ۔ آج وہ سجاد کی فرمائش سے تیار ہوئی تھی انہیں باہر گھومنے جانا تھا ۔
اس نے سلک کا سوٹ اس گرمی میں بھی سجاد کے اصرار پر پہنا تھا وہ بضد تھا ۔
گھر میں وہ اس کی ساس اور سجاد کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔ سجاد نے چائے کی فرمائش کی جسے وہ فوراً پورا کرنے کے لیے کچن کی طرف دوڑی ۔
کچن میں ہر طرف گیس کی بو پھیلی ہوئی تھی ۔ وہ فکر مندی سے چولہے کے پاس آئی تو دیکھا کہ چولہے کا والو کھلا رہ گیا ہے ۔ کھٹ سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی ۔ وہ ڈر گئی وہ ابھی دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ ایک دم سے کچھ پھٹا۔ اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی وہ شعلوں کی لپیٹ میں تھی جو بری طرح اس کے جسم کو جھلسا رہے تھے ۔
وہ ہذیانی انداز میں چیختی چلاتی رہی ۔ لیکن اس کی آواز شاید کوئی سننے والا نہیں تھا ۔
سجاد کیوں اسے بچانے نہیں آیا کیا اسے آواز نہیں آ رہی تھی یا… یہ اس نے ہی کیا ہے … اس کا ذہن مائوف ہوچکا تھا ۔ اس کی چیخیں دم توڑ رہی تھیں … اور… اور وہ آہستہ آہستہ دروازے کے سامنے گر رہی تھی ۔
اس نے بیرونی دروازے کو دھڑ دھڑاتے اور لوگوں کی چیخ و پکار سنی تھی ۔ وہ کون تھے… یہ وہ بھی نہیں جان پائی اس کی آنکھیں اب بند ہو چکی تھیں کوئی اس کے گرد کمبل لپیٹ رہا تھا ۔ آنکھیں کھلنے پر اس نے خود کو اسپتال میں پایا ۔
سجاد وہیں موجود تھا ۔
’’ تمہیں خیال رکھنا چاہیے تھا ۔ اتنی لا پرواہ کیسے ہو سکتی ہو تم ‘‘۔ وہ چہرے پر کوئی تاثر لیے بغیر اس سے مخاطب تھا ۔
’’ یہ … تم نے ہی کیا ہے … میں جانتی ہوں…کیوں کیا تم نے ایسا۔‘‘ الفاظ ٹوٹ رہے تھے وہ درد کی شدت سے کراہتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی ۔
یہ درد ان زخموں کا نہیں تھاجو ظاہری تھے درد ان زخموں کا تھا جو سجاد نے دیے تھے… اس کے دل کو ٹھیس پہنچی تھی … کچھ لمحوں کے لیے وہ بالکل خاموش رہا اور اس کے چہرے پر نظر گاڑے رہا ۔
’’ تم پولیس کو یہ بالکل نہیں کہو گی ‘‘۔ اس بار اس آواز میں اشتعال تھا ۔
’’ہاں…‘‘
’’ تم مر جائو گی… میں جیل جائوں گا اور بدنامی تمہارے گھر والوں کی ہو گی ۔ تم شاید بھول گئی ہو کہ تمہاری دو بہنیں بھی ہیں ان کا کیا ہو گا ۔ کون شادی کرے گا ان سے ‘‘۔
جواب میں خاموشی صرف خاموشی ۔ اس کے الفاظ ختم ہو گئے ۔ اس کی ساس بھی وہیں موجود تھی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی ۔ اس نے ایک نقاہت بھری نظر ساس کی طرف دوڑائی اور آنکھیں بند کر لیں ۔
اس کی سانسیں اُکھڑ رہی تھیں ۔ کیا وہ مر رہی تھی؟ وہ تو پہلے سے ہی مر چکی تھی جو دھوکہ سجاد نے اسے دیا وہی کافی تھا اسے مارنے کے لیے ۔
ایک پولیس انسپکٹر اس سے بیان لینے کی کوشش کر رہا تھا ۔
’’ کیسے ہوا یہ سب؟ کس نے کیا؟ دروازہ کس نے بند کیا؟ آگ کس نے لگائی؟ کیا آپ نے خود کشی کی کوشش کی تھی؟ آپ کے شوہر کا سلوک کیساتھا آپ کے ساتھ؟‘‘
خاموش کراہوں کے سوا اس کے اس اور کچھ نہیں تھا ۔
ہر گزرتے لمحے کے بعد اس کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا تھا… وہ کسی کو کیا بتاتی کہ … وہ جہیز جیسی لعنت کا شکار تھی ۔ جس کی وجہ سے وہ بسترِ مرگ پر پہنچی تھی… اور اس کے ذہن میں آنے والے سوالوں کا ریلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا…
کیا ہر غریب لڑکی کا یہی مقصد ہے؟ کیا اس کی طرح جہیز میں ٹی وی ، اے سی نہ لانے پر ہر لڑکی کے لیے دنیاوی دوزخ ہوگا؟
تکلیف… مزید تکلیفڈاکٹر اس کے گھر والوں کو بتا چکے تھے ۔ وہ کسی بھی لمحے مر سکتی ہے ۔ چند لمحے وہاں زار و قطار رونے کی آوازیں تھیں اور ملیحہ اس کی آنکھیں ۔ جس میں زندگی کا جلتا بجھتا دیا آخر کار بجھ چکا تھا… وہاں خاموشی تھی صرف خاموشی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ