نئی حکومت ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرے

40

پانی اور بجلی کے بعد اہل کراچی کا تیسرا بڑا مسئلہ ’’پبلک ٹرانسپورٹ‘‘ کا ہے۔ اس وقت کراچی کی زمینی صورت حال اور حقیقت یہ ہے کہ لوکل اور سرکلر ٹرین کلی طور پر نابود کردی گئی ہے۔ 2 کروڑ سے زاید کی آبادی والے شہر میں بسوں کی تعداد اور کوچوں کو آپ انگلیوں پر شمار کرسکتے ہیں اور سندھ کا وزارت ٹرانسپورٹ گزشتہ 40 سال میں بلامبالغہ کراچی میں نہ تو پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی بہتری لاسکا ہے اور نہ ہی نجی یا سرکاری طور پر کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی نئی انوسٹمنٹ سامنے آئی ہے اور کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ ایک منظم انداز میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ختم کیا اور کروایا گیا ہے اور اس نیک کام میں گزشتہ چالیس سال سے صوبے میں حکومت کرنے والے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی برابر کے شریک اور ذمے دار ہیں۔ (اہل کراچی کی بدقسمتی ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دوبارہ سندھ کو لوٹنے، نوچنے اور کھسوٹنے کے لیے پھر منتخب ہوچکے ہیں)۔ نوکر شاہی اور سیاستدانوں سے کیا شکوہ کریں، ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی اہل کراچی کے حقیقی مسائل کو تاریخوں اور پیشی در پیشی اور برہمی پر ٹال رہی ہے، ڈبل سواری کا مسئلہ ہو یا پانی، بجلی کا مسئلہ ہو، فیصلہ نہیں آتا۔ عدالتی ریمارکس سن سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں، سنا ہے کہ 25 جولائی کو تبدیلی آگئی ہے، اللہ کرے واقعی تبدیلی آجائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی قیادت قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے وفاقی سطح پر اپنی نگرانی میں کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملات میں سدھار لائے اور اگر اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔
مسز طاہرہ، بھٹائی آباد، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.