اصغر خان کیس، ڈی جی ایف آئی اے کو تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے پر کام کرنے کا حکم

67

لاہور (نمائندہ جسارت) چیف جسٹس پاکستان نے اصغر خان کیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عہدے پر کام کرنے کا حکم جاری جاری کردیا‘ تمام اداروں کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کی ہدایت ۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اصغر خان کیس پر عمل درآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی۔ عدالت کے روبرو جاوید ہاشمی ،میر حاصل بزنجو،عابدہ حسین،غلام مصطفی کھر اور ڈی جی یف آئی اے بشیر میمن ،اسد درانی روئے داد خان سمیت دیگر پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصغر خان عمل درآمد کیس میں مزید تاخیر برادشت نہیں کریں گے
ایک منٹ ضائع کیے بغیر تفتیش مکمل کریں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف نے بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کا بیان آچکا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے نے جس کو بلایا اس کو جانا ہوگا۔ عدالت کے دائرے میں کسی ایجنسی کا کوئی زور نہیں۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کو پاکستان آنے میں جورکاوٹ تھی وہ ختم کر دی۔ اب پرویز مشرف آئیں اور دکھائیں کہ وہ کتنے بہادر ہیں۔ مشرف پاکستان آئیں گے تو قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ چیف جسٹس نے جاوید ہاشمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ میں بھاٹی سے الیکشن لڑوں تو نہیں جیت سکتا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہاشمی صاحب میں نے الیکشن نہیں لڑنا آئین کا تحفظ کرنا ہے۔ آپ نے وزیراعظم ہاؤس میں میرے کردار کی تعریف کی تھی۔ اس پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں آپکی دل سے عزت کرتا ہوں۔ نیر حاصل بزنجو نے عدالت کو بتایا کہ اصغر خان کیس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ غلام مصطفی کھر نے عدالت میں کہا کہ ہمیشہ سیاست دا ن کے منہ کو سیاہ کیا گیا اب یہ واضح نہیں ہے کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ تفتیش میں شامل ہونے کا مقصد کسی جو بدنام کرنا یا ہراساں کرنا نہیں اگر سرخرو ہوئے تو سب صاف ہو جائے گا۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ہم نے قربانیوں سے حاصل کی گئی مادر وطن کا تحفظ نہیں کیا، لوگ وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، سیاستدان قوم کے لیڈر، ملک کواعلیٰ تر بنانے کے بارے میں سوچیں۔ علاوہ ازیں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نااہلی کے معاملے میں عدالت عظمیٰ کو اپنی قانونی رائے دیتے ہوئے کہا کہ مشرف عدالتی مفرور ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔عدالت عظمی میں جمع کرائے گئے چھ صفحات پر مشتمل تحریری جواب میں اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی مفرور ہونے کی بنیاد پر پرویزمشرف کی درخواست خارج کی جائے۔ قانون کی نظر میں عدالتی بھگوڑے کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست ناقابل سماعت ہے۔ عدالتی مفرور پرویز مشرف کی درخواست کے میرٹ کو دیکھے بغیر خارج کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ