ماہ رمضان کی رحمتیں اور مہنگائی ،کون ازالہ کرے گا

52

تحریر: شکیل بیگ

رحمتوں اور سعادتوں کا مہینہ جس کا انتظار ہر مومن کو رہتا ہے ماہ رمضان کی برکتوں کو سمیٹنے کے لیے مسلمان کا دل عبا دات کی طرف راغب رہتا ہے اور جسم کی زکوۃ بھی خوب دی جاتی ہے اور مساجد میں مولانا صاحبان تراویح سے قرآن سنا کر ہم کو ترو تازہ فرماتے ہیں ہر طرف سحر و افطار کے خوبصورت مناظر ملتے ہیں جبکہ بچوں میں روزہ رکھنے کی خوب ریت چلتی ہے یعنی ہر طرف اللہ تعا لیٰ کی نعمتوں کا خوب شکر ادا کیا جاتا ہے غریب ہو یا امیر دونوں صرف اور صرف اللہ تعا لیٰ کی خوشنو دی حاصل کرنے میں لگے ہوتے ہیں اس تمام عبادات کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی خریداری بڑھ جاتی ہے جہاں عبادت کے ساتھ رزق حلال کمانے کی جستجو رہتی ہے وہاں اخراجات بھی دوگنے ہوجا تے ہیں ہر گھر میں سحری و افطاری میں خوب لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے غریب اپنے حساب سے اور امیر اپنے اخراجات کو بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے کیونکہ بہت سے امیر یعنی امراہ اللہ کی مخلوق پر بھی خرچ کرتے ہیں بلکہ بہت سے غربا ء کے روزے کا بھی بہت اعلیٰ انتظام کرتے ہیں اللہ تعا لیٰ اپنے بندوں کو خوب نوازتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بہت سے مسلمان غریب و مڈل کلاس مہنگائی کی زد میں ہو تے ہیں میر ا چونکہ ان دونوں کلاس سے بہت قریب سے واسطہ پڑتا ہے اور مجھے فخر ہے یہ سفید پوش کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ اپنے روز مرہ کا اہتمام اپنی حیثیت کے مطابق کرتے ہیں چونکہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ جاتاہے کوئی چیز سستی نہیں رہتی کمشنر کراچی اینڈ کنٹرولر جنرل پرائسز اورہم سے کیے گئے وعدے بھی وفاء نہیں ہوتے اور پھر ہر ٹھیلے ،ریڑھے والا اور دکاندار کے اپنے ریٹ ہوتے ہیں بلکہ ہر علاقے کی مارکیٹ اپنے حساب سے اشیاء فروخت کرتی ہے جب ان سے پوچھا جائے تو صارف کو ایک ہی جواب ملتا ہے پیچھے سے مہنگا ہے یہ جواب سن سن کر ہم نے پیچھے والوں کو اپنے ساتھ رکھ لیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بھی لینا شروع کر دیں اس پریکٹس کے بعد پتہ چلا کہ پیچھے کا نعرہ لگانے والے اپنی مرضی سے فروٹ اور دیگر اشیاء مہنگی کرتے ہیں تاکہ ماہ صیام کا بھر پور فائدہ اٹھا کر شاید امیر ہوجائیں جبکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ روزہ دار کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جب �آپ کسی کو ناجائز مہنگا کر کے اشیاء بیچیں گے تو وہ دل سے دعا نہیں بلکہ ؟ دیتا ہوگا ہمارے یہاں صارف پورے سال اگر یہ پریکٹس کرے کہ ہر ٹھیلے ،ریڑھے اور دکاندار سے کنٹرولر جنرل پرائسز کی جانب سے جاری کردہ لسٹ کے مطابق چیزیں خریدے تو رمضان المبارک میں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی ۔کیونکہ پورے سال ہر ٹھیلے والا اور دکاندار لسٹ حاصل کرتا ہے لیکن اس لسٹ کو نہ صارف دیکھتا ہے اور نہ دکاندار اور ٹھیلے والے اس لسٹ کو آویزاں کر تے ہیں اگر صارف دکاندار سے کمشنر کراچی اینڈ کنٹرولر جنرل پرائسز کی جانب سے جاری کردہ لسٹ طلب کر یں تو آخر وہ مجبور ہوکر لسٹ ضرور آویزاں کریں گے لیکن لسٹ دیکھنے کے بعد بھی صارف کی جیب محفوظ نہیں کیونکہ اس کے ساتھ وزن اور کوالٹی میں بھی دھوکا کیا جاتا ہے یعنی درجہ دوم کا مال درجہ اول اور ترازو اور اس کے باٹ وزن میں بھی ڈنڈی ماردی جاتی ہے اور صارف کوپھر بھی اس کی قیمت کے حساب سے اشیاء نہیں ملتیں رمضان المبارک کے مہینے میں جہاں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے وہاں کچھ ایسے عناصر (شیطان) بھی ہیں جو قابل احترام پیشے یعنی تجارت سے منسلک ہیں جس کی وجہ سے وہ کم تولنا ،درجہ بندی کرنا ،قیمتیں زیادہ وصول کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں حالانکہ بہت سے تاجر خوب روز ے داروں سے دعائیں لیتے ہیں صارف کو ہوشیار ہونا پڑے گا اور صارف کو اپنا اختیار بھی منوانا ہو گا کیونکہ پوری دنیا خاص کر پاکستان میں انڈسٹری اور تجارت صرف اور صرف صارف کی مرہون منت ہوتی ہے اگر صارف چیزیں نہ خرید یں تو بیکار ہوجاتی ہیں صارفین کو جب بھی فروٹ ،سبزیاں ،مرغی گوشت ،بیکری سے سامان یا مٹھائیا ں خریدنی ہوں تو وہ وہاں کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کردہ لسٹ ضرور دیکھیں خاص کر رمضان المبار ک میں سموسے،رول،پکوڑے خرید نے سے پہلے لسٹ پر لکھی ہوئی قیمتیں ضرور دیکھ لیں اور اس قیمت پر ہی یہ اشیاء خریدیں اگر ان قیمتوں میں مذکورہ چیزیں نہ ملیں اور لسٹ بھی آویزاں ہو تو پھر فوری اپنی شکایات کمشنر کراچی یا ڈپٹی کمشنر کے کنٹرول روم میں مندرجہ ذیل نمبروں پر کراسکتے ہیں کمشنر کنٹرول روم99205634,99203443ڈپٹی کمشنر ڈی سی ایسٹ 99230918 ساؤتھ99205628 سینٹرل99260049 ویسٹ99333175 ملیر 35001305کورنگی 99333926 ٹول فری ہیلپ لائن نمبر1299 واٹس اپ 032184چیئر مین کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستانCRC گورنر ہاؤس میں شکایت کرنے ان نمبروں 02135683344پر کال کر سکتے ہیں۔
نیز کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء پر پابندی عائد کی جائے انہوں نے کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی اشیاء کی کوالٹی چیک کرے تاکہ عوام میں بیماریوں کی روک تھام ہو سکے او ر رمضان المبارک کے ماہ میں عوام کو خالص اور معیاری اشیاء خوردونوش دستیاب ہوسکیں شکیل بیگ نے کہا کہ سستے بازاروں جمعہ بازار ،منگل بازار اور دیگر بازاروں میں عوام کو گھی ، کوکنگ آئل ،بیسن او ر ایسی ہی دیگر ملاوٹ شدہ اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کی جارہی ہے جس کی روک تھام کے لئے متعلقہ اداروں کو سخت کاروائی کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ اکثر سستے بازاروں میں مضر صحت اور زائد المعیاد جوس ،نمکو اور دیگر اشیاء بھی کثرت سے فروخت ہو تی ہیں ان مضر صحت اشیاء خوردونوش کو بنانے اور فروخت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے شکیل بیگ نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی سختی سے جانچ پرتال کی جائے اور شہر میں ہر قسم کے مشروبات اور دیگر فروخت ہونے والی غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کو روکا جائے انہوں نے کہا کہ ایسی مضر صحت اشیاء بنانے اور فروخت کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں جو عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں شکیل بیگ نے کہا کہ ایسے افراد قوم کے مجرم ہیں جنہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دی جائیں اور مروجہ قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ