اردو سے غیروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، عنایت علی خان

39

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) ممتاز عالم،ماہر تعلیم اور شاعرپروفیسر عنایت علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سندھ کی ایک درسگاہ میں صرف انگریزی اور سندھی زبانوں میں تعلیم جاری رکھنے کے اعلان پر بہت دکھ ہوا کہ اردو زبان جس کی بنا پر قیام پاکستان کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوسکی تھی، آج اس سے پاکستان میں غیروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا تحریک پاکستان کے دو بنیادی پہلو تھے ایک نظریاتی اور دوسرا لسانی جس کی بنا پر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی گئی تھی، اس لیے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اردو زبان نہ ہوتی تو پاکستان نہ بنتا اور اگر یہ نہ رہی تو ملک کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے
ہیں۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایک خوبصورت ترین زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے لیکن افسوس آج ہمارے ملک میں بچوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو انگلش زبان میں تعلیم حاصل کرو۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی (ماجو) میں ترویج و ترقی اردوگفت وادب کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،کانفرنس کی صدارت کے فرائض سینئر صحافی اور ممتاز رائٹرمحمود شام نے انجام دیے۔جن دیگر نمایاں شخصیات نے اس کانفرنس سے خطاب کیا ان میں ممتاز اسکالر اور مینجمنٹ ٹرینر سیّد نصرت علی،ٹیلی ویژن کی مشہور اداکارہ عذرا منصور،مشہور شاعرہ سبین سیف،اٹلانٹس پبلشرز کے سربراہ فاروق احمد اور تھیسپیان تھیٹر کے ڈائریکٹر و اداکار فیصل قابل ذکر تھے۔کانفرنس کا اہتمام یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرز میڈم زرتاشہ عمران اور حسن آفتاب نے کیا تھا۔محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ، ایسو سی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک، سماجی علوم کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عزیز الرحمان سیفی،ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر منیر حسین کے علاوہ سینئر اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ماجو میں اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر مجلس مذاکرہ کے علاوہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسین منٹو کی شخصیت پر ایک تھیٹر بھی پیش کیا گیا جس کو حاضرین نے بے حد سراہا۔علاوہ ازیں اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر طلبہ کی جانب سے اردو میں کی جانے والی فن خطاطی کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔صدر مجلس محمود شام نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی نسل میں احساس زیاں پایا جاتا ہے کیونکہ ہماری نسل نے اردو زبان کی ترویج پر توجہ نہیں دی ۔انہوں نے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا دور ہے مگر ہم نے اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ