کراچی کے شائقین کے لیے خوشخبری، پی ایس ایل فائنل نیشنل اسٹیڈیم میں ہی کھیلا جائے گا

179
نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے دورے کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے، دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے دورے کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے، دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل 25 مارچ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہی کھیلا جائے گا، ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپریل میں لاہور میں 3 میچ کھیلے گی اس حوالے سے ایک دو روز میں کراچی کے شہریوں کو بھی خوشخبری دوں گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی نے گزشتہ روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں جاری تزئین و آرائش اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں وضاحت کی کہ دبئی اور شارجہ میں جاری پی ایس ایل کا فائنل کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہی کھیلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس محنت اور دیانت داری سے ہماری ٹیم نے نیشنل اسٹیڈیم کو تیار کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ این ایل سی، نیس پاک اور سندھ حکومت نے دن و رات کام کر کے اسٹیڈیم کو فائنل کھیلنے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام2 سال میں ہونا تھا وہ 4 ماہ میں مکمل کر لیا گیا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش اور تعمیرات کا زیادہ تر کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ کام 15 مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے نیشنل اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش اور تعمیر کے کاموں میں حصہ لینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے کام سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کے حوالے سے پاکستان آرمی کا بھرپور تعاون اور سندھ حکومت نے مالی معاونت کے ساتھ دیگر کاموں میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے، لاہور اور کراچی سے این ایل سی کے انجینئرز نے دن رات کام کیا جبکہ نیس پاک نے سیفٹی اسٹینڈرڈ اور دیگر متعلقہ امور کو بھرپور مانیٹر کیا۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ ایک نیشنل کاز ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز نے بڑی محنت سے کام کیا۔ ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیز کی رپورٹ بہت مثبت ہے اور میرا دل کرتا ہے کہ ان رپورٹس کو میں آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کروں لیکن میری مجبوری ہے کہ آئی سی سی کے قوانین کی وجہ سے ان رپورٹس کوخفیہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سیکورٹی رپورٹس کے مطابق کراچی اور لاہور کو گرین سگنل دے دیا گیا ہے جو کہ بہت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کرکٹرز کراچی اور لاہور میں سیکورٹی کے حوالے سے بہت مطمئن ہیں اور امید ہے کہ وہ یہاں آکر سیمی فائنل اور فائنل کھیلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال غیر ملکی کرکٹرز اور فرنچائز سیکورٹی صورتحال کے حوالے سے زیادہ مطمئن نہیں تھے جبکہ اس سال وہ مکمل طور پر مطمئن ہیں اور کراچی اور لاہور میں کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ نجم سیٹھی نے بتایا کہ ٹکٹوں کی فروخت کا عمل 15 مارچ سے شروع کیا جائے گا، مختلف انکلوژر کی ٹکٹس کی مالیت ایک ہزار سے لے کر 12 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم میں تقریباً 25 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تماشائیوں کے اعتبار سے نیشنل اسٹیڈیم میں جگہ کم پڑ جائے گی کیونکہ ٹکٹس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ چیئرمین باکس کی خستہ حالی کے حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ وہ میرے لئے ہے، میں چیئرمین باکس میں نہیں بیٹھوں گا، عام تماشائیوں کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھ لوں گا۔ نیشنل اسٹیڈیم کے روٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بہت زبردست انتظامات کر رہی ہے اور تماشائیوں کو نیشنل اسٹیڈیم تک آنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہو گی۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم اپریل سے 4 اپریل تک لاہور میں 3 میچ کھیلے گی اور کراچی میں ویسٹ انڈیز کے میچ کے حوالے سے ایک دو روز میں خوشخبری دوں گا۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) سبحان احمد سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ