نائیجیریا:بوکو حرام کے ہاتھوں ایک بار پھر91طالبات اغوا

89
ابوجا: نائیجیریا کے ایک اسکول کی فائل فوٹو ، چھوٹی تصویر اغوا کے واقعے کے خلاف مظاہرے کی ہے
ابوجا: نائیجیریا کے ایک اسکول کی فائل فوٹو ، چھوٹی تصویر اغوا کے واقعے کے خلاف مظاہرے کی ہے

ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا کی شمالی مشرقی ریاست یوب میں 3 روز قبل شدت پسند گروپ بوکو حرام کے ایک اسکول پر حملے کے بعد 91 طالبات لاپتا ہو گئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق معاملے سے براہ راست طور پر آگاہ افراد کا کہنا ہے کہ منگل کے روز اسکول میں حاضری کے وقت 91 طالبات غیر حاضر پائی گئیں۔ بوکو حرام کے طرف سے بڑی تعداد میں (طالبات کو ) اغوا کرنے کا دوسرا واقعہ ہے جس نے اپریل 2014ء میں چبوک کے گاؤں سے 276 لڑکیوں کو اغوا کیا تھا۔ پہلے واقعہ کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی اور اس کے ردعمل میں ’ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ ‘ کی تحریک شروع ہوئی، 4 سال کے بعد بھی چبوک سے اغوا کی گئی 100سے زائد لڑکیاں تاحال لاپتا ہیں۔ اغوا کے تازہ واقعے کے بعد خوف کی وجہ سے درجنوں والدین (باقی صفحہ 9 نمبر 18) اپنی بچیوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے دپاچی قصبے کے گورنمنٹ گرلز اسکینڈری اسکول میں جمع ہوئے ۔ لاپتا ہونے والی طالبات میں سے ایک کے چچا نے کہا کہ ہماری لڑکیاں 3 روز سے لاپتا ہیں اور ہمیں ان کا اتاپتا معلوم نہیں ہے ۔ دوسری طرف گومسا گاؤں کے ایک عینی شاہد جس سے باغیوں نے راستے کے بارے میں پوچھا تھا کا کہنا ہے کہ میں نے 3 لڑکیوں کو ایک گاڑی میں روتے اور مدد کے لیے ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ ریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ علاقائی وزارت تعلیم اغوا کے واقعہ سے انکار کررہی ہے لیکن دوسری طرف والدین اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑکیاں لاپتا ہو گئیں ہیں۔ ریاست کی وزارت تعلیم بھی لڑکیوں کے اغوا کے واقعہ سے انکار کرتی ہے تاہم اس نے اسکول کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ طالبات اپنے خاندانوں سے آ ملیں۔ عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شدت پسند ٹرکوں میں پیر کی شام کو دپاچی پہنچے اور ان میں سے بعض بھاری ہتھیاروں سے مسلح بھی تھے اور وہ وقفہ وقفہ سے فائرنگ کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تھوڑی دیر کے بعد (لڑکیوں کو) تلاش اوربازیاب کروانے کی کارروائی شروع کر دی۔ دوسری جانب نائیجریا کی فوج نے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی طرف سے پیر کے روز اغوا کی گئی درجنوں طالبات میں سے کئی کو رہا کرا لیا ہے ۔ ان طالبات کو شدت پسندوں نے اس وقت اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جب انہوں نے رواں ہفتے کے شروع میں ایک اسکول پر حملہ کر دیا تھا۔ ایک فوجی ترجمان کے مطابق ان طالبات میں سے بہت سی اب واپس اپنے آبائی دیہات میں پہنچ گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد مغوی طالبات ابھی بھی بوکو حرام کے شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔
نائیجیریا ؍ بوکوحرام

Print Friendly, PDF & Email
حصہ