بیت المقدس پر امریکی فیصلے سے متعلق جنرل اسمبلی کا اجلاس

90
نیویارک: فلسطینی صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
نیویارک: فلسطینی صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

نیو یارک (انٹرنینل ڈیسک) بیت المقدس پر امریکی متنازع فیصلے سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی صدر نے کہا ہے کہ مشرقی بیت المقدس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ منگل کے روز اپنے خطاب میں محمود عباس نے مزید کہا کہ فلسطینی انتظامیہ نے کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات ہی امن کا واحد ذریعہ ہیں۔ اسلحہ استعمال کرنے کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ہم مسلح جدوجہد کے خلاف ہیں اور امن کی ثقافت کو فروغ دینے اور تشدد کو ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت بے اختیار ہے اور ہم قابض انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی برادری ہماری مدد کرے تاکہ ہم کوئی ایسا اقدام کرنے پر مجبور نہ ہوں جو نہ ہمیں پسند ہو اور نہ دنیا کو۔ دوسری جانب جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل امریکی مندوب نکی ہیلی نے فلسطینی صدر محمود عباس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امن عمل کو آگے بڑھانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اُدھر فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے تنازع کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

محمود عباس نے اپنے حالیہ دورہ ماسکو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو آگاہ کیا تھا کہ امریکا اب مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے سلسلے میں اکیلا ثالث نہیں ہو سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ