یورپی یونین کا ایرانی جوہری سمجھوتا برقرار رکھنے پر زور

138
برسلز: یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق پریس کانفرنس کر رہے ہیں
برسلز: یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق پریس کانفرنس کر رہے ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والا بین الاقوامی سمجھوتا کارگر ہے، جب کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل بنانے اور دیگر سرگرمیوں پر مشرق وسطیٰ میں تشویش پائی جاتی ہے، تاہم اس معاملے کو علاحدہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات برسلز میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی، جس میں 2015ء کے سمجھوتے کو زیر بحث لایا گیا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا تھا، اس تشویش کے ساتھ کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ سمجھوتے کے نتیجے میں ایران پر لاگو مالیاتی تعزیرات میں نرمی برتی گئی۔ ایران کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض پُرامن نوعیت کا ہے۔ اخباری نمایندوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے دیگر سفارت کاروں کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف موجود نہیں تھے، جب کہ بدھ کے روز انہوں نے سمجھوتے کی حمایت جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا، ساتھ ہی امریکا پر الزام لگایا کہ وہ تباہ کن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ موگرینی نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تمام معاملات پر قریبی تعاون اور مکالمہ جاری (باقی صفحہ 9 نمبر 10) رکھنے کی صورت نکلی اور انہوں نے اس کامیابی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ