دہشت گردی کا عفریت

185

ایک عرصے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس دہشت گردی کے تانے بانے واضح طور پر ہندوستان، افغانستان اور کسی حد تک ایران سے ملتے ہیں۔ ہندوستان سے ہمارا جھگڑا روز اول سے ہے۔ جس کی بنیاد تقسیم ہند کے دوران روا رکھی جانے والی ناانصافیاں ہیں۔ تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں مسلمانوں پر حملے، لوٹ مار اور آتشزنی کی وارداتیں ہونے لگیں۔ جس کے رد عمل کا شکار پاکستان کے حصے میں آنے والے پنجاب کے سکھ بنے یوں دونوں طرف سے انتقال آبادی کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس سے نمٹنے کی تیاری کسی نے نہیں کر رکھی تھی۔ محسوس ہوتا ہے تقسیم کے معاملات طے کرنے والوں نے جیتے جاگتے انسانوں کو روبوٹ سمجھ لیا تھا۔ کانگریس مسلسل اس تقسیم کے خلاف زہریلی زبان اختیار کررہی تھی اور اسے ماں کی تقسیم کے مترادف قرار دے رہی تھی۔ ان حالات میں فسادات کے امکان کو نظر انداز کرنا سرکار انگلیشیا اور دونوں نمائندہ جماعتوں کی مجرمانہ غفلت ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ تقسیم ہند کے حوالے سے ریڈ کلف ایوارڈ کو خطے میں بارودی سرنگ کی تنصیب قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس غلط فیصلے سے بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے اور پاکستان کے پانی کے سر چشموں پر اختیار حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس تنازع پر جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے پاکستان اور بھارت میں ایک مکمل اور کئی مقامی جنگیں ہوچکی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت اور مکتی باہنی کی پشت پناہی کرتے ہوئے جنگ چھیڑنے کے عمل کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلا دیش میں تبدیل ہوا جس کے بعد مشرقی پاکستان میں مقیم غیر بنگالی شہریوں کو شہریت دینے سے انکار کرنے اور انہیں خار دار تاروں کے پیچھے محصور کیے جانے کے عمل نے ایک ایسے انسانی المیے کو جنم دیا جو اپنی طرز کی دوسری مثال ہے۔ پہلی مثال اسرائیل نے فلسطین پر قبضے کے بعد مسلمانوں کو ان کی ہی زمین پر اجنبی بنا کر قائم کی تھی۔ دنیا بھر میں شورش اور جنگ کی وجہ سے ہجرت اور قریبی ممالک میں پناہ گزینی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آج بھی لاکھوں انسان مختلف ممالک کے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مقیم ہیں۔ لیکن انہیں اس غیر انسانی رویے اور حالات کا سامنا نہیں ہے جو اپنے وطن میں اجنبی بنائے گئے لوگوں کو اسرائیل اور بنگلا دیش میں کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مسلسل کشیدگی نے دونوں ممالک کو نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی راہ پر لگا دیا ہے۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردی کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے، پولیس اور تفتیشی اداروں، پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملوں اور مختلف شہروں میں بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی امداد سے لے کر ان کے افرادکار کی تربیت اور رہنمائی کے کام انجام دیتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں زیر حراست کل بھوشن یادیو ایک بڑا حوالہ ہے۔
افغانستان وہ ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے رکن بنائے جانے کی مخالفت کی تھی۔ اس کا سبب افغان حکمرانوں کی طرف سے پاکستان سے سرحدی تنازع بتایا جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب مخمصہ ہے جس سے افغانستان ہی نہیں، پاکستان کے بہت سے پختون رہنما بھی اب تک نہیں نکل سکے ہیں جو گاہے گاہے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ڈیورنڈ لائن کی زنجیر کو طور خم سے اکھاڑ کر اٹک کے پل پر نصب کردیں گے۔ اب تو یہ بات کبھی کبھار ہی سنائی دیتی ہے لیکن 30برس سے قبل تک یہ ایک زیادہ زیر گفتگو مسئلہ رہا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ہندوستان پر انگریز کے اقتدار کی آخری حد کی علامت ہے۔ افغانستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے باہر کے حکمرانوں کی اطاعت کم ہی قبول کی ہے۔ مغل سلطنت بھی اسے اپنا مستقل حصہ بنانے میں ناکام رہی یہاں بار بار بغاوتیں پھٹ پڑتیں اور بادشاہ کو اپنے کسی شہزادے کو بغاوت فرو کرنے کے لیے بھیجنا پڑتا۔ اس کے برعکس افغانستان سے ہندوستان پر حملوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کبھی محمود غزنوی کی شکل میں، کبھی احمد شاہ ابدالی کی صورت میں، لیکن ظہیر الدین بابر کے سوا کسی باہر سے آنے والے نے ہندوستان پر مستقل بادشاہت کی کوشش نہیں کی۔ جب انگریز نے آہستہ آہستہ ہندوستان پر اپنا قبضہ مکمل کیا اور اس قبضے کو افغانہ تک وسیع کرنے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید نقصانات اٹھانے کے بعد انگریزوں نے کاغذ پر پنسل سے ایک لیکر کھینچی اور اسے اپنے اقتدار کی آخری حد قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ جن قبائل نے انگریزوں کی محدود اطاعت قبول کی وہاں کے خوانین کو انتظامی اختیارات کے ساتھ اپنی علیحدہ حیثیت قائم رکھنے کی اجازت دی گئی۔ یہاں وائسرا ئے اپنا ایک نمائندہ مقرر کردیتا تھا جو رابطے کی کڑی کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ علاقے افغانستان اور ہندوستان کے درمیان اپنی آزاد حیثیت قائم رکھے ہوئے تھے۔ تقسیم ہند کے وقت ڈیورنڈ لائن تک کا علاقہ انگریزوں کی حکمرانی میں ہونے کی وجہ سے تقسیم کا موضوع بنا اور اکثریتی مسلم علاقہ ہونے کے سبب پاکستان کا حصہ بھی بن گیا۔ یہ سارا علاقہ وہ ہے جو کبھی کابل کی حکومت کا حصہ نہیں رہا۔ یہ بھی خیال رہے کہ اگر مغلوں کی طرح انگریزوں کے اقتدار کی وسعت کابل و قندھار تک ہوتی تو تقسیم کے وقت وہ سارا علاقہ پاکستان کا حصہ بن جاتا جو انگریزوں کا غلام تھا۔ قبائلی علاقے جس طرح انگریزوں کے دور میں ایک باریک ڈور سے بندھے تھے اب بھی اسی طرح ایک باریک ڈور سے پاکستان سے بندھے ہیں اور وفاقی زیر انتظام علاقہ جات کہلاتے ہیں۔ ان علاقوں کو ایک الگ صوبہ قرار دینے یاخیبر پختون خوا کا حصہ بنانے پر اب تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔
۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ