جرمنی‘ جبری بے دخلی کیخلاف پاکستانی و افغان تارکین وطن کا احتجاج

197

برلن( رپورٹ :مطیع اللہ) جرمنی سے جبری بے دخلی کے خلاف جرمن شہریوں سمیت پاکستانی و افغانی تارکین وطن نے جرمنی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے مظاہرین جبری بے دخلی کے عمل کو روک نے کا مطالبہ کیا۔ اسٹاپ ڈیپوٹیشن اور’ یار ‘سمیت دیگر این جی اوز کے زیر اہتمام مظاہرے میں درجنوں شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اسٹاپ ڈیپوٹیشن کے رہنما آصف شاہ نے کہا کہ جرمنی سے اچانک درجنوں پاکستانیوں کو بے دخل کرنے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ہم ہر بے دخلی کے عمل کو ناجائز سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ اپنی جان بچانے یہاں آئے ہیں انہیں جنگ زدہ ملک میں زبردستی بھیجنا بے انصافی ہے۔ اس موقع پر این جی او کے نمائندے نے کہا کہ ہم نا انصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے،جبری بے دخلی کے عمل کے خاتمے تک ہم احتجاج کو مزید وسیع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی حکومت نے پاکستان کی رضامندی سے پاکستانیوں کو خصوصی طیارے کے ذریعے جرمنی سے اسلام آباد پہنچا دیا۔اسلام آباد کے ائر پورٹ پر 150 سے زائد پاکستانیوں کو گرفتارکرلیا۔ پولیس نے گرفتاری سے قبل خصوصی طیارہ کا بندوبست کرلیا تھا۔ گزشتہ ماہ افغانستان کے 2 درجن سے زائد تارکین وطن کو بے دخل کیا گیا تھا۔ پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق بے دخل کیے گئے پاکستانی تارکین وطن کو درخواستیں مسترد ہونے کے ساتھ ہی اطلاع دی گئی تھی تاہم پاکستانی تارکین وطن جرمنی چھوڑنے پرآمادہ نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ جرمن حکومت نے مسترد شدہ درخواست گزاروں کو جرمنی سے بے دخل کرنے کا عمل کو تیز کرنے کا اعلان کیاتھا جبکہ پاکستانی تارکین وطن کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے برلن سمیت مختلف اضلاع میں چھاپے مارنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ درسری جانب بے دخل کیے گئے تارکین وطن کو پاکستان پہنچنے پر ایف ائی اے نے گرفتار کرلیا، گرفتار تارکین وطن میں غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تارکین کو جیل جبکہ بعض کو رہا کردیا گیا۔ ایف ائی اے کے اہلکار نے نمائندہ جسارت کو بتایا کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی تیز ہونے کے باعث جرمنی سے بے دخل ہونے والے تارکین سے تفتیش کے بعد رہا کیا جائے گا جبکہ بے دخل تارکین نے جسارت کو بتایا کہ پاکستانی ایف آئی اے کے اہلکاروں نے بہت تنگ کیا اورہمارے ساتھ بدتمیزی کی۔ جرمن اور پاکستان حکومت میں سی پیک میں انوسٹمنٹ اور دیگر تجارتی معاہدوں کے باعث تارکین وطن کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستانی قونصلر جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ جرمن حکومت نے ہمیں آگاہ کردیا تھا کہ مسترد پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی سے بے دخل کردیا جائے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ