رنج، غم اور ذہنی دباؤ سے نجات

44

نفسا نفسی اور مادہ پرستی کے اس دور میں جدید تہذیب کا ایک تحفہ ذہنی دبائو بھی ہے ۔ ہر انسان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہوں گے جو اس کیفیت سے نہ گزرے ہوں ۔ مسائل کے انبار میں بے بسی کی کیفیت غالب ہوتی ہے ۔ قرآ ن کی روشنی میں اہل ایمان کی خصوصیت یہی ہے کہان کی زندگی میں کوئی خوف یا رنج کا موقع نہیں۔
زندگی خداے بزرگ و برتر کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور ذہنی دبائو جیسے خود ساختہ مسائل کے سد باب کے لئے مندرجہ ذیل رہنما اصول اپنانے چاہئییں تاکہ زندگی آسان اور سہل ہو جائے ۔
۱۔ہمیشہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں ۔ یاد رکھیں کہ اس جہان فانی میں کوئی چیز خداے بزرگ و برتر کے حکم اور مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے ۔ اﷲ کے نزدیک وہ لوگ بہت پسندیدہ ہیں جو اﷲ کی رضا پر راضی رہے اور شکر گزاروں میں شامل ہوئے ۔ بے شک اﷲ کسی ذی روح پر اُس کی طاقت سے زیادہ وزن نہیں ڈالتا اور شکر گزاروں اور صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔
۲۔نماز کو اپنا معمول بنائیں ۔ بے شک نمازدلوں کو سکون دیتی ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے ۔
۳۔مسائل کو مصیبت نہیں بلکہ چیلنج سمجھ کر سامنا کریں ۔ آپ اپنی استطاعت ہی تک ذمہ دار ہیں ۔ ایک دم سارے کام کرنے کے بجائے ترجیح ، اور ترتیب کے ساتھ جو ممکن ہو اس کو کریں ۔
۴۔زندگی کے معاملات سلجھاتے ہوئے ایک مقصدی اور متوازن انداز فکر اپنائیں ۔
۵۔کتاب انسان کی بہترین دوست اور تنہائی کی بہترین رفیق ہے ۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں ، نئے افکار اور خیالات سے آپ کی شخصیت کو جلا ، فکر کرو روشنی اور شعور کو پختگی ملے گی ۔
۶۔اپنے قریبی لوگوں کو مسائل میں شریک کریں ۔ ممکن ہے اس طرح مسائل کے حل کے لئے کوئی نئی سمت اور جہت مل جائے ۔ مشورے اور شراکت سے بوجھ بانٹا جا سکتا ہے ۔
۷۔صبح جلدی اُٹھیں اور صبح کی سیر کو اپنا معمول بنا لیں ۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ پہلے سے زیادہ توانا اور چوکس ہیں ۔
۸۔جس طرح ہفتہ وار تعطیل ہمیں آرام اور توانائی بہم پہنچاتی ہے اسی طرح کچھ وقت کسی تفریحی مقام پر گزارنے سے انسان اپنی شخصیت پر اس کے خوشگوار اثرات کو محسوس کر سکتا ہے اور ایک تازہ ولولہ حاصل کر سکتا ہے ۔

حصہ