پاکستان جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم

54

پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم جونیئر ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرسکے گی جو آٹھ دسمبر سے بھارت  کے شہر لکھن میں منعقد ہو رہا ہے۔

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کی جگہ ملائیشیا کو اس عالمی مقابلے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے جونیئر عالمی کپ میں شرکت کی تصدیق کی آخری تاریخ 28 نومبر مقرر کی تھی۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنی شرکت کی آخر وقت تک تصدیق نہیں کی ۔ اس ضمن میں متعدد بار پاکستان ہاکی فیڈریشن سے رابطہ بھی کیا گیا۔انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے ویزے میں تاخیر کی ذمہ داری بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن پر عائد کر دی ہے کہ اس نے مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد ویزوں کے لیے درخواست دی تھی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے غیر ملکی خبر رساں  ادارے سے  گفتگوکرتے ہوئے اس صورتحال کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے حکومت پاکستان کی جانب سے جونیئرہاکی  ٹیم بھارت  بھیجنے کی اجازت ملنے کے بعد 24 اکتوبر کو ویزوں کے لیے پاسپورٹ اسلام آباد میں بھارتی  ہائی کمیشن میں جمع کرادیے تھے لیکن تاحال ویزے جاری نہیں کیے جا سکے۔ ظاہر ہے ویزے نہ ملنے کی صورت میں شرکت کی تصدیق کیسے ممکن ہے؟

غورطلب بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے موجودہ صدر بھارت  سے تعلق رکھنے والے نریندر بٹرا ہیں جو حال ہی میں ایف آئی ایچ کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور پاکستان ہاکی فیڈریشن نے صدر کے انتخاب میں ان کی حمایت کی تھی۔نریندر بٹرا نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی جونیئر ٹیم جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لے گی لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم جونیئر عالمی مقابلے میں حصہ نہ لے سکی تو اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کر لیا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں بھارت  ہاکی کے عالمی مقابلوں کی میزبانی تواتر سے کر رہا ہے۔گذشتہ جونیئر ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ بھی 2013 میں بھارت  کے شہر نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا ۔بھارت  2010 میں سینئر ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے بعد 2018  میں دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی اپنے یہاں کرے گا۔

بھارت  نے دو سال قبل چیمپئنز ٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ کی میزبانی بھی کی تھی جس کے دوران پاکستانی کھلاڑی شائقین کے ساتھ تنازعے میں الجھ پڑے تھے جس نے انڈین ہاکی فیڈریشن کو چراغ پا کر دیا تھا اور اس نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو انڈین ہاکی لیگ میں کھیلنے کے لیے نہیں بلایا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت  کے درمیان کشیدہ تعلقات کے سبب پاکستان کے لیے بھارت  میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں شرکت آسان نہیں رہی ہے۔ گذشتہ ماہ پاکستانی کبڈی ٹیم بھارت میں ہونے والے کبڈی ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم رہی تھی کیونکہ انڈین حکومت نے اسے کلیئرنس نہیں دی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ