دنیا اور تعلیم

آپی آپکو پتہ ہے آج میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤں گئی…

وہ کیسے اور کون سا مقصد؟؟؟(حرا اپنی چھوٹی بہن صائمہ سے تعجب کے لہجے میں بولی)

آپی آپ کو پتہ تو ہے آج مجھے ڈگری ملنے والی ہے اور پھر کہیں بھی بغیر کسی کوشش کے نوکری بھی حاصل کرسکوں گی.

اُف صائمہ میں سمجھی کے پتہ نہیں تم کون سے معرکے میں کامیاب ہونے لگی ہو.(حرا طنزیہ لہجے میں بولی)

آپی آپکو یہ معرکہ لگتا ہے….بلکہ آج تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اپنا مستقبل بنا چکی ہوں جس کا تحفہ آج مجھے ملنے والا ہے(صائمہ ناراضگی بھرے لہجے میں بولی)

اوہ….ہاں پتہ ہے مجھے تم تو بس اس بے رخی دنیا کے لیے ہی دوڑلگاؤ گی….کھبی آخرت کی کامیابی کا سوچا ہے؟؟؟(حرا سوالیہ لہجے میں)

افوہ…. آپی آپ بھی ناں! صبح صبح شروع ہوگئی…اچھا میں واپس آکر آپ کی تقریر سنوں گئی…(صائمہ بیزاری سے کہتے ہوئے چلی گئی)

ٹھیک ہے…..ٹھیک ہے جاؤ…ویسے بھی میں اتنا تو تمھیں جانتی ہوں کہ تمھیں خوشی میں کوئی بات سمجھاؤ بھی تو سمجھ نہیں آتی.(حرا مسکراتے ہوئے)

×—–×——×

اسلام و علیکم! میں آگئی(جزباتی لہجے میں پسینے سے شرابور اندر داخل ہوتے ہوئے صائمہ شیروں کی طرح بھاگتی ہوئی آئی)

آجاؤ….وعلیکم اسلام میری بچی….لگتا ہے بھر پور تعریفوں کے ساتھ ڈگری ملی ہے جو خوشی سے پاؤں بھی نیچے نہیں آرہے. بہت مبارک ہو……(امّی ہنستے ہوئے گویا ہوئیں)

(صائمہ خوشی سے بھرپور انداز میں)امّی یہ صرف آپ کی بدولت ہے آپ نے میرے لیے بہت قربانیاں دی ہے. مجھے بہت محنت سے پڑھایا ہے……اس لیے آج میں یہاں تک پہنچ سکی ہوں.

ہاں ہاں میری لاڈو….لیکن تم نے بھی بہت محنت کی ہے اللّہ تمھیں مزید کامیابیاں عطا کرے. تمھیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے.

جی آمین….آپی کدھر ہے…..امّی ؟؟ ان سے بھی مبارک باد لے لوں(صائمہ ہنستے ہوئے بولی)

حرا کمرے میں کپڑے سمیٹ رہی ہے(امّی نے کچن کی جانب جاتے ہوئے کہا)

اچھا ٹھیک ہے….. امّی جان میں وہی پر چلی جاتی ہوں(صائمہ جلدی جلدی بولتے ہوئے نکل گئی)

×——×——-×

اچھا جی…..تو میری پیاری سی گڑیا جیسی بہن کو ڈگری مل ہی گئی ہے. چلو خیر….. مبارک ہو اور میری پارٹی کدھر ہے؟؟

بہت بہت خیر مبارک……پارٹی بھی دے دونگی……آج جو مانگیں گئی وہ سب کچھ آپ کے لیے حاضر ہے (صائمہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا)

واہ کیا بات ہے. آج مِس صاحبہ کو لگتا ہے بہت ہی خوشی ہو رہی ہے(حرا چھیڑتے ہوئے بولی)

کیوں نہیں….ظاہر ہے مجھے خوشی کیا بہت ہی زیادہ خوشی ہے.(صائمہ ہنستے ہوئے بولی)

اور فضا میں زوردار قہقہہ گونج اٹھا

×—–×——×

کھانے سے فارغ ہوتے ہی دونوں بہنیں بیٹھ گئی……..

(صائمہ حرا سے ہنستے ہوئے ) آپی اب میں اپکی تقریر سننے کے لیے تیار ہوں…..

ہاں ہاں میری ننھی سی بہن مجھے پتہ ہے اور تم جانتی ہو کہ میں اپنی بات ضرور پوری کرتی ہوں.

اچھا تو میں کہہ رہی تھی کہ ہم دنیا اور تعلیم کے  لیے کتنی جدوجہد کرتے ہیں. اگر ہمیں دنیا میں اپنا کوئی مقام حاصل کرنا ہوتا ہے تو اس کے لیے ہمیں دنیا کے طور طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں مثلاً ہم تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے ہیں تاکہ معاشرے میں ہمارے وجود کا بھی مقصد ہو.

میں یہ نہیں کہتی کہ تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے. میرا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر بھی ساتھ ساتھ زور دینا چاہیے کیونکہ دنیا کی تعلیم تو صرف دنیا ہی تک محدود ہے. لیکن جو ہماری اصلی قیام گاہ (آخرت) ہے اس کے لیے ہم نے کتنی کوشیش کی ہیں اور ہم یہ کیسے جان سکیں گۓ کہ ہم آخرت میں کامیاب ہے کہ نہیں …….

جی آپی….آپ کہہ تو سہی رہی ہے کہ دونوں تعلیمات ہمیں حاصل کرنی چاہیے……لیکن آج کل لوگ تو زیادہ دنیاوی زندگی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں.

ہاں ہاں صائمہ!! اسکی بھی کوئی وجہ ہے…..

مطلب آپی کیا وجہ ہے؟؟؟(صائمہ نے تعجب بھرے لہجے میں)

میری چاند جیسی بہن……وجہ یہ ہے کہ لوگ دنیاوی تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں شہرت حاصل کرنا چاھتے ہیں تاکہ دنیا ان کے قدموں تلے رہ کر چلے.

(صائمہ ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے) جی بلکل ٹھیک کہا آپ نے لوگوں کا اہم مسئلہ ہی شہرت حاصل کرنا ہے.

صائمہ وہ حدیث حضورؐ کی ہم سب کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے….لیکن اس علم سے مراد دنیاوی اور دینی دونوں ہے . اگر آپ کو دنیاوی علم آتا ہوگا تو آپ خود بخود اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرسکتےہیں. مثال کے طور اگر تمھارے سامنے کوئی انگریز آجائے اور اُسے اردو نہیں آتی ہو اور تمھیں اُسے دین کے بارے مین بتانا ہو تو تم کیا کرو گئی؟؟؟؟ یہی ناں! اسے انگریزی ہی میں سمجھاؤ گئی….اگر تمھیں انگریزی نہیں آتی ہوگئی تو تم کیسے سمجھاؤ گئی……تو میری پیاری بہنا اس کے لیے دنیاوی تعلیم بھی ضرور حاصل کرنی ہوگی.

جی بلکل آپی…..آپ نے مجھے دنیا اور تعلیم کے بارے میں بہت اچھے طریقے سے سمجھایا ہے کہ دنیا کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی ترجیح دینی ہوگی.

جزاک اللّہ خیراکثیرا

اوہ میری پیاری بہنا….. مجھے اپنی بہن کی دنیا اور آخرت دونوں سنوارنی ہے. اس لیے میں نے تمھیں تھوڑا سا سمجھایا ہے.

جی جی آپی…..آپ بہت اچھی ہیں(صائمہ نے خوشی سے کہا)

ہمم…..اچھی تو میں ہوں ہی….(حرا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا) اور فضا میں خوشی بھرا ماحول پیدا ہوگیا

آخرت کی تعلیم کے لیے دنیا کی تعلیم بھی ضروری ہے جس کے لیے مجھے ہر امتحان قبول ہے

جواب چھوڑ دیں