برازیل ، تیونس اور کویت کی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

214
برازیل ، تیونس اور کویت کی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

کویت سٹی: برازیل ، تیونس اور کویت نے اسرائیلی قبضے کیخلاف فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے ۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کویتی ارکان پارلیمنٹ نے فلسطینی عوام کی حمایت اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

بیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کویتی ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے جہاد اور تحریک آزادی کے ساتھ جڑے رہنے، ان کی جائز مزاحمت کے لیے اپنی حمایت کی تجدید اور تصدیق کرتے ہیں اور قابض ریاست کے ساتھ نارملائزیشن کو مسترد کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی حمایت، فلسطینیوں کے جائز جہاد اور جدوجہد کی حمایت،  ان کے غصب شدہ حقوق کی حمایت ایک مستقل، سرکاری اور عوامی سطح پر مسلمہ اصول ہے۔

۔تیونس کی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امن صرف فلسطینیوں کے حق کی بحالی سے ہی قائم ہو سکتا ہے جسے حدود کے قانون سے کبھی ضائع نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینی بھائیوں کو خود ارادیت، آزادی اور وقار کے اپنے مکمل حقوق دوبارہ حاصل کئے جائیں۔  برازیل کی پارلیمنٹ نے فلسطین کے لئے خصوصی سرکاری اجلاس منعقد کیا۔

فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کی یاد میں، متعدد اراکین پارلیمنٹ، سینیٹ اور برازیل کی مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے اس خصوصی سیشن میں خطاب کیا۔پارلیمانی اجلاس میں برازیلیا میں فلسطینی سفیر ابراہیم الزبن، متعدد عرب اور لاطینی سفیروں اور فلسطینی اور عرب کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم، اراضی پر قابض فوج کے مسلسل جرائم اور یہودی بستیوں کے ذریعے فلسطینی اراضی کی مسلسل چوری اورگھروں کی مسماری کے وسیع مناظر دکھائے گئے۔

برازیل کی ورکرز پارٹی کے رہنما وفاقی نائب پالو پیمینٹا نے اپنی تقریر میں کہا کہ “ان کی پارٹی اور اس کے ارکان فلسطینی کاز کے لیے اپنی تاریخی وابستگی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

پیمینٹا نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی پوری سرزمین پر رہنے اور اپنے تمام حقوق سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ہر روز اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف ڈھائے جانے والے ظلم و ستم اور قتل عام کے خلاف آواز اٹھانے اور مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔