نواز شریف مریم اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے یورپ روانہ

219

اسلام آباد/ لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپسی سے قبل امریکا جانے کا مشورہ دیدیا گیا جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کے لیے یورپ روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب برطانیہ چھوڑے بغیر ویزے میں توسیع نہ ملنے پر نوازشریف نے برطانوی ہوم آفس میں دائر کی گئی اپیل واپس لے لی۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد کو ان کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ وطن واپسی سے قبل علاج کے لیے امریکا جائیں۔ سابق وزیراعظم کی طرف سے اپنی پارٹی رہنماں کو شیڈول سے آگاہ کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی سے قبل علاج مکمل کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کی شریانوں کا علاج امریکا سے کرایا جائے گا، ان کے امریکا جانے کے لئے فیملی کے سفارتخانے سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کو پاسپورٹ ملنے کے بعد امریکا جانے کی رائے دی گئی ہے، لیگی نائب صدر مریم نواز بھی والد کے ہمراہ امریکا کا دورہ کرینگی۔

ذرائع کے مطابق لیگی قائد کا امریکا سے واپسی پر برطانیہ میں بھی ایک آپریشن ہو گا، برطانیہ میں آپریشن کے بعد نواز شریف وطن واپسی کا ٹائم فریم دیں گے، نواز شریف اور مریم نواز اکھٹے پاکستان واپس آئیں گے۔دوسری طرف میاں نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ یورپ روانہ ہو گئے، شریف فیملی کے افراد دس دن یورپ کے مختلف ممالک میں چھٹیاں گزارنے کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔

اُدھر ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے برطانوی ہوم آفس سے اپنی اپیل واپس لے لی ہے، یہ اپیل ہوم آفس میں زیر التوا تھی ابھی تک جج نے اپیل نہیں سنی، مختلف تاریخ دی جاتی رہی۔

یاد رہے کہ نواز شریف کی برطانیہ چھوڑے بغیر برطانیہ میں قیام میں توسیع کی درخواست ہوم آفس نے مسترد کردی تھی، انہوں نے اس فیصلے کے خلاف برطانوی ہوم آفس میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

خیال رہے کہ 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چودھری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو صحت کی تشویشناک صورتحال کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہو رہے تھے۔ سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز تھے۔

بعد ازاں اس بورڈ میں مزید ڈاکٹروں اور ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کی تھی اور بتایا تھا انہیں خلیات بنانے کے نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے تاہم ڈاکٹر طاہر شمسی نے تفصیلات فرہم کرتے ہوئے بتایا تھا نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے، ان کی بیماری کا نام ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) ہے جو قابلِ علاج ہے۔

اسی دوران شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر ان کی سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جبکہ چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے تصدیق کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی حالت تشویشناک ہے جبکہ نیب نے بھی علاج کی صورت میں بیرونِ ملک روانگی سے متعلق مثبت رد عمل ظاہر کیا تھا جس پر عدالت نے ایک کروڑ کے 2 ضمانت مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔