ملی یکجہتی کونسل: مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں دھکیلنے کی روش کی شدید مذمت

106

لاہور: ملی یکجہتی کونسل نے  مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں دھکیلنے کی روش کی شدید مذمت کی ہے۔

کونسل کا مرکزی مشاورتی اجلاس سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا ، جس میں  سید ثاقب اکبر ، مفتی گلزار نعیمی ، علامہ عارف حسین واحدی ، عبد الرشید ترابی ، سید ناصر شیرازی ، ڈاکٹر محمد زمان ، سیف اللہ خالد ، طاہر تنولی اور علامہ امین شہیدی نے شرکت کی۔

مشاورتی اجلاس میں فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں کے لیے مفتی رفیع عثمانی کے انتقال کا مشترکہ صدمہ ہے ۔ مرحوم صاحب علم اور اتحاد امت کے داعی تھے ۔ ملی یکجہتی کونسل 2023 ء کے آغاز ہی میں عالمی اتحاد امت کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کرے گی ، جس میں  سعودی عرب ، ترکیہ ، ایران ، ملائیشیا ، سوڈان ، فلسطین ، افغانستان سے علما اور اسکالرز شریک ہوں گے ۔  اس سلسلے میں لیاقت بلوچ کی سربراہی میں 8 رکنی انتظامی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ۔  کمیٹی سفارشات پر ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ حتمی لائحہ عمل طے کرے گی ۔

مرکزی مشاورتی اجلاس میں حکومت اور ریاستی پالیسی سازوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو گہرے سرد خانے میں دھکیلنے کی روش کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اتحادی حکومت مسئلہ کشمیر پر فعال کردار ادا کرے ۔ قومی اور سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر اجاگر کیا جائے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کر رہا ہے ۔ فاشسٹ مودی پاکستان کی خاموشی سے پورا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ حق خود ارادیت ہی مسئلہ کشمیر کا واحد پائیدار حل ہے ۔

کونسل نے حکومت کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ادھورا ہے ۔ حکومتی ایما پر بینکوں اور افراد نے اپیلیں کیں، ان سب کو واپس کرانا حکومتی ذمے داری  ہے ۔ حکومت اللہ اور اس کے رسول ؐ کے خلاف جنگ ترک کرنا چاہتی ہے تو وہ مکمل اقدام کرے ۔ اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے مکمل لائحہ عمل دے ۔ انسداد سود کے لیے علما ، خطیب حضرات خطبہ جمعہ میں اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے آواز بلند کریں ۔