کے الیکٹرک بلوں میں میونسپل ٹیکس کیخلاف حکم امتناع میں توسیع

168

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس شامل کرنے کیخلاف حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستوں پر حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے کے ایم سی سے تفصیلات طلب کرلیں۔

جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو عدالتی معاون خالد جاوید خان، جماعت اسلامی کے عثمان فاروق اور سیف الدین ایڈووکیٹس، ایس حسن مجتبی عابدی اور عذرا مقیم ایڈووکیٹس کے ایم سی سے اور ایان مصطفی میمن ایڈووکیٹ کے الیکٹرک کی جانب سے پیش ہوئے۔

عدالت نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کہیں کوئی مثال ہے جس میں بجلی کے بلوں میں میونسپل چارجز وصول کیے جاتے ہوں؟ بیرسٹر خالد جاوید نے مقف دیا کہ لاہور ہائیکورٹ ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ بلز کلیکشن کو آٹ سورس نہیں کیا جاسکتا۔

کے ایم سی اور کے الیکٹرک کے قوانین کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کارروائی کا کے ایم سی کا اختیار کے الیکٹرک کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک اور کے ایم سی الگ الگ ادارے ہیں۔ کے الیکٹرک کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ کئی ممالک میں اس طرح بلز وصول کیے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مقف دیا کہ میونسپل چارجز پہلے واٹر بورڈ کے بلز میں شامل ہیں۔ میونسپل چارجز کو بجلی یونٹس کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔ بجلی کے یونٹس کے ساتھ میونسپل چارجز میں بھی اضافہ ہوگا۔ سندھ حکومت نے کے ایم سی کے موقف کی تائید کردی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مقف دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ایم سی کے اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیے کہ کے ایم سی کا بل کے الیکٹرک کے ساتھ منسلک کرنے کا کیا مقصد تھا؟

عدالت نے کے الیکٹرک کے بلز میں میونسپل ٹیکس وصولی کیخلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے کے ایم سی کو 7دسمبر تک تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔