جماعت اسلامی نے ترقیاتی کاموں میں کرپشن پر سندھ حکومت اور محکموں کو قانونی نوٹس جاری کردیے

113

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعم الرحمن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اجلاس اور کراچی میں ترقیاتی کاموں میں کرپشن،ناقص و غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت اور دیگر محکموں کو قانونی نوٹس جاری کردیے۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں ترقیاتی پروجیکٹس اور اسکیموں میں کرپشن و غیر معیاری اور ناقص میٹریل کے استعمال اور 2019 سے اب تک ہونے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے سندھ حکومت اور اس کے ماتحت مختلف محکموں کو قانونی نوٹسز جاری کردیے ہیں اور نوٹسز کا جواب نہ دینے کی صورت میں متعلقہ اداروں کو عدالت میں لے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی ترجمانی کرے گی۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، آئین کے آرٹیکل 19-Aکے تحت عوام کو اختیار حاصل ہے کہ ان کو تمام معلومات فراہم کی جائیں اور تمام ترقیاتی اسکیموں کے نام، کب اور کہاں شروع کی گئیں، لاگت کا تخمینہ، فنڈز کے ذرائع، اسکیموں کے آغاز اور اختتام کی تاریخ سمیت تمام ضروری معلومات سے آگاہ کیا جائے۔ پریس کانفرنس میں سیکریٹری جنرل کراچی منعم ظفر خان اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ 14,15سال سے کراچی میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ ادوار کے ترقیاتی بجٹ کا حساب لگایا جائے تو یہ ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے بنتے ہیں اس عرصے میں کوئی ایک پروجیکٹ بھی مکمل نہیں ہوا اس وقت بھی ورلڈ بینک کے فنڈز سے جو سڑکوں کی استر کاری ہو رہی ہے۔ کرپشن اور نا اہلی کی وجہ اس کا معیار نہایت ناقص ہے۔قومی خزانے کے اربوں روپے کرپشن اور نا اہلی کی نذر ہو رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے 14برس میں کراچی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے اور اسے اپوزیشن بھی ایم کیو ایم جیسی فرینڈلی ملی جو اس کے ساتھ سندھ حکومت میں بھی شریک رہی۔ سب سے زیادہ ان دونوں پارٹیوں نے مل کر کراچی کو برباد کیا ہے اور آج بھی یہ دونوں کراچی دشمنی میں ایک پیج پر ہیں۔بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور الیکشن کے التوا کے حوالے سے بھی یہ دونوں پارٹیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ نہ بلدیاتی انتخابات کرائے جارہے ہیں اور نہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آرٹیکل 140-Aکے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین مرتبہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جا چکے ہیں اب سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی خواہش پر ان کا فرمائشی پروگرام نہیں چلے گا۔الیکشن کمیشن اپنی آئینی وقانونی ذمہ داری پوری کرے اور فوری طور پر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے اور اعلان شدہ تاریخ پر انتخابات کے انعقاد کو ہر صورت میں یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ کراچی میں غیر قانونی اور سیاسی ایڈمنسٹریٹر بھی برطرف کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر کراچی کے عوام کا مینڈیٹ فروخت کیا ہے اور وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کو مضبوط کر رہی ہے اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیئے۔ اختیارات اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ایک دوسرے سے جوڑ کر فرار کے راستے اختیار کرنے سے باز آنا چاہیئے اور پی ٹی آئی کو بھی وضاحت کرنی چاہیئے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کی سرپرستی میں اسلامیہ کالج پر قبضہ مافیا کی کوششوں کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم کالج پر قبضے کے لیے طلبہ پر پولیس کی یلغار کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دو ٹوک انداز میں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سندھ حکومت کے تعلیم دشمن اقدامات کے خلاف طلبہ کی جدو جہد میں ان کے ساتھ ہیں۔