موت العالِم موت العالَم: محمد رفیع عثمانی کی رحلت

876

مفتیِ اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی بھی اب اس فانی دنیا میں نہیں رہے۔ اْن کی عمر 86 برس تھی۔ ان کی رحلت نہ صرف ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ امتِ مسلمہ اور پاکستان کا بڑا نقصان ہے۔ ان کے انتقال پْرملال سے امت ِ مسلمہ ایک ممتاز عالم دین، قائد، محسن اور جامع صفات کی حامل شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ تحریک ِ پاکستان کے رہنما مفتی محمد شفیع عثمانی کے بڑے صاحب زادے تھے، جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر اور مفتی تقی عثمانی اور ولی رازی کے بھائی تھے۔ آپ دارالمدارس العربیہ کے سرپرست ِ اعلیٰ کے ساتھ و فاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر، کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور ڈائو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ رکن، اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ِ ہلال کمیٹی اور زکوٰۃ و عشر کمیٹی سندھ کے رکن اور سپریم کورٹ آف پاکستان اپیلٹ بینچ کے مشیر بھی رہے۔ آپ کا کئی مذہبی سیاسی تحریکوں میں نمایاں کردار رہا ہے۔ کئی اہم ایشوز پر نہ صرف قوم کی رہنمائی کی بلکہ مسائل اعلیٰ حکام اور اربابِ اقتدار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان کی پوری زندگی جہد ِمسلسل سے عبارت تھی۔ رفیع عثمانی 21 جولائی 1936ء کو ہندوستان کے صوبہ اْترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبے دیوبند میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن کا آغاز دارالعلوم دیوبند سے کیا، اور 1947ء میں خاندان کے ہمراہ 12 سال کی عمر میں ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ آپ نے 1976ء میں مفتی شفیع عثمانی کے انتقال کے بعد دارالعلوم کراچی کا انتظام سنبھال لیا تھا، جس کے لیے آپ کی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ آج ایک اہم مقام پر ہے۔ مفتی رفیع عثمانی نے دو درجن سے زائد تحقیقی مقالے، کتابیں تحریر کیں، جن میں ’’اختلاف رحمت‘‘، ’’فرقہ بندی حرام‘‘، ’’دو قومی نظریہ‘‘، ’’فقہ میں اجماع کا مقام‘‘، ’’یورپ کی جاگیرداری، سرمایہ داری اور اشتراکی نظام کا تاریخی پس منظر‘‘ اور ’’مسلکِ دیوبند فرقہ نہیں‘‘ اور ’’اتباعِ سنت سمیت دیگر کتب شامل ہیں۔ آپ نے روزنامہ جنگ، کراچی کے اردو ماہنامہ البلاغ، اور دیگر رسائل میں افغان جہاد سے متعلق اپنی یادداشتیں بھی تحریر کی تھیں جو بعدازاں ’’یہ تیرے پراسرار بندے‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع بھی ہوئیں۔ بے شک ’’علماء انبیاء کے وارث ہیں، عالم کی موت پورے جہان کی موت ہے‘‘۔
آپ کے انتقال پر صدر مملکت، وزیراعظم، امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سمیت دیگر سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔ سراج الحق نے اپنے تعزیتی پیغام میں مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کی عالم اسلام اور پاکستان کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک معتبر و محترم دینی شخصیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ مفتی اعظم کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ اللہ تعالیٰ مفتی رفیع عثمانی کی مغفرت فرمائے