بلدیاتی انتخابات کے 3 بار التوا: الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت ملے ہوئے ہیں، حافظ نعیم

251

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات تین بار ملتوی کیا جانا واضح کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت ملے ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی علاقہ کلفٹن کے تحت فریئر ٹاؤن میں ایک شام حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے سیاسی اور غیر قانونی ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کراچی کے لیے باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن شہر کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ۔سڑکوں کی استرکاری کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی جارہی ہے ، ناقص میٹریل کے استعمال سے ایسی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں جو بارش سے قبل ہی خراب ہوجائیں گی اور ایک بار پھر استرکاری کے نام پر اربوں روپے بجٹ مختص کر کے دوبارہ کرپشن کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 3 مرتبہ بلدیاتی الیکشن ملتوی کیے جا چکے ہیں اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سندھ حکومت آپس میں ملے ہو ئے ہیں ۔بلدیاتی انتخابات نہ ہونے سے کراچی کے فنڈز کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں۔ سندھ پولیس کے 6 ہزار اہل کار اسلام آباد بھیجے گئے لیکن بلاول بھٹو انتخابات کے لیے ناظم آباد کے پولنگ اسٹیشن پر پولیس نہیں لگا سکتے ۔

تقریب سے نائب امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور، یوسی ii صدر ٹاؤن کے نامزد امیدوار سعد لیاقت اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر معروف سماجی شخصیت لیاقت عبدا للہ، کنٹونمنٹ کونسلر ذکر محنتی،معاذ لیاقت بھی موجود تھے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ آج ملک کے سب سے بڑے شہر کا کوئی والی وارث ہی نہیں۔کوئی اسے اون کرنے کو تیار نہیں ۔تمام حکومتیں اور حکمران جماعتیں کراچی سے صرف لوٹ مار کرنا چاہتی ہیں لیکن کراچی کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتیں۔ یہ شہر پورے پاکستان کی معیشت کو چلاتا ہے ۔قومی خزانے میں بھاری ریونیو جنریٹ کر کے دیتا ہے اور گزشتہ سال کی نسبت اس سال 42فیصد زیادہ ٹیکس جمع کروایا ہے لیکن اس کے باوجود کراچی کے مسائل سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کراچی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے ہی کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ۔نعمت اللہ خان نے کے تھری منصوبہ مکمل کیا اورکے فور منصوبہ شروع کیا لیکن بدقسمتی سے کے فورمنصوبہ آج تک مکمل نہ ہوسکا  اور اس پر اربوں روپے کی کرپشن ہوچکی ہے اور مزید کرپشن کی تیاری کی جارہی ہے۔کے فور منصوبہ اپنے وقت پر مکمل ہو جاتا تو کراچی کے عوام آج پانی کے سنگین مسئلے کا شکار نہ ہو تے ۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ 75سال گزرنے کے باوجود اس ملک کو اس کا مقصد اور منزل نہیں مل سکی ۔ہمارے آباؤ اجداد نے ایک نظریے،مقصد اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے لازوال قربانیاں دیں لیکن حکمران ٹولے نے پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے دور کیا ہوا ہے ۔پہلے کرپشن محدود پیمانے پر ہوا کرتی تھی اب بالا طبقے سے نچلی سطح تک کرپشن کی جارہی ہے ۔

حافظ نعیم نے کہا کہ ملک میں بدامنی پھیلتی جارہی ہے ،حالات ایسے بنادیے گئے ہیں کہ نوجوان طبقہ نشے کا عادی ہورہا ہے ، ان کے لیے روزگار نہیں ، چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت و ریاست عوام کو تعلیم ،صحت جیسی بنیادی ضروریات تک دینے سے قاصر ہیں۔ پورا نظام انقلابی اصلاح اور تبدیلی چاہتا ہے جس کے لیے ایک بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے عوام کی خدمت اور دیانت داری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔جماعت اسلامی میں ہر مسلک و زبان بولنے والے موجود ہیں اور اکثریت مڈل کلاس طبقے کی ہے ۔جماعت اسلامی اتحاد امت کی داعی ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام  اور قانون نافذ کرنے کی جدو جہدکر رہی ہے ، جب تک ملک میں اسلام کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں ہوں گے ،عدل و انصاف کا نظام قائم نہیں ہوگا ،محرومیاں اسی طرح بڑھتی چلی جائیں گی ،جماعت اسلامی اسی عدل و انصاف کی دعوت اور ایسے نظام کے لیے جدوجہد کررہی ہے جہاں ہر انسان کو برابری کے ساتھ حقوق ملیں۔