جماعت اسلامی نے کراچی میں فوری بلدیاتی انتخابات کیلیے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی

182

اسلام آباد: جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

جماعت اسلامی کی پٹیشن میں عدالت ِ عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 17اگست کے خود اپنے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حکم دے کہ کراچی میں فوری بلدیاتی انتخابات کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کرے تاکہ کراچی کے عوام کو ان کا آئینی و قانونی حق مل سکے ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں پٹیشن امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کو فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ الیکشن کو بار بار ملتوی کرکے الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کے مرتکب ہو ئے ہیں اور عوام کو ان کے آئینی و قانونی حق بلدیاتی انتخابات سے محروم کرکے آئین اور قانون کی خلاف ورزی بھی کی جارہی ہے۔

عدالت ِ عظمیٰ نے 17اگست کو واضح طور پر حکم دیا تھا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد شیڈول کے مطابق 28اگست کو یقینی بنایا جائے لیکن اس کے باوجودتاحال کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کرایا گیا اور مختلف حیلے اور بہانوں سے 3مرتبہ انتخابات ملتوی کرائے جا چکے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے پہلے بارش اور پھر سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے نام پر پولیس نفری کی کمی کو جواز بنایا گیا اور ایک بار پھر ان ہی حیلے ، بہانوں سے انتخابات کو مزید التواء میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن صرف سندھ حکومت سے خط و کتابت اور ضروری نفری اور انتظامات کے حوالے سے استفسارات کے سوا کچھ نہیں کر رہا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں ایک طرف سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے وہیں الیکشن کمیشن بھی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ کراچی میں بلدیاتی اداروں کی مدت اگست 2020میں پوری ہو گئی ہے اور دوسال سے زائد عرصے سے کراچی کے عوام اپنے منتخب میئر اور بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہیں ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہوا ہے جو الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد بھی اپنے عہدے پر براجمان ہے اور الیکشن کمیشن نے ہماری بار بار متوجہ کرانے اور احتجاج کرنے کے باوجود بھی اس کا نوٹس نہیں لیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ  سیاسی ایڈمنسٹریٹر کو فوری برطرف کیا جائے ۔

حافظ نعیم الرحمن اور سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے کردار کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں حکمران پارٹیاں ایک سازش کے تحت کراچی میں بلدیاتی انتخابات کو مسلسل التوا میں رکھنا چاہتی ہیں اورآرٹیکل 140-Aکے تحت  بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیے جا رہے حالانکہ آئین اور قانون کے مطابق شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں ،شہر میں با اختیار شہری حکومت ہو اور گراس روٹ لیول پر عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔