اسرائیل اور مراکش نے توانائی کی تحقیق پر تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے

287
اسرائیل اور مراکش نے توانائی کی تحقیق پر تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے

یروشلم:اسرائیل اور مراکش نے توانائی کی تحقیق پر تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ۔

غیرملکی میڈیا نے اسرائیل کی بار ایلان یونیورسٹی کی جانب سے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل اور مراکش کی یونیورسٹیوں کے توانائی پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے توانائی   مسائل پر کثیر الشعبہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے پر یونیورسٹی میں اسرائیل کی وزیر تعلیم یفت شاشابیٹن، اسرائیل میں مراکش کے رابطہ دفتر کے سربراہ عبدالرحیم البیود اور دیگر سینئر حکام اور سائنسدانوں کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

مراکش کے رہنما نے اس حوالے سے کہاکہ مذکورہ معاہدے سے وسیع تعاون کی ایک نئی راہ ہموار ہو گی۔بیان کے مطابق تعاون میں ایک تحقیقی پروگرام کا قیام بھی شامل ہے جس میں 33 اسرائیلی اور 20 مراکشی تحقیقی گروپ شراکت دار ہیں۔

بیان میں کہا گیاکہ منصوبہ بند مشترکہ تحقیق میں ریچارج ایبل بیٹریوں کی ترقی، ری سائیکلنگ، شمسی توانائی، ہائیڈروجن اکانومی اور مراکش کے سپین جیسے پڑوسی ممالک میں توانائی کو ذخیرہ کرنے اور منتقل کرنے کے چیلنج سے نمٹنا شامل ہے۔

اسرائیل اور مراکش نے 22 دسمبر2020کو تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔