کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی مقررہ تاریخ میں تبدیلی کی جائے،حافظ نعیم الرحمن

164

کراچی:امیر جماعت اسلامی  کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل یا بعد میں کروائے جائیں کیوں کہ 23 اکتوبر کو ہونے والے کرکٹ میچ سے ووٹنگ کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اللہ اللہ کر کے بلدیاتی  الیکشن کی تاریخ دوبارہ طے ہوئی ہے۔ اب الیکشن میں 40 دن باقی ہیں۔ بیلٹ پیپر کا رنگ تبدیل کر کے اسے دوبارہ چھاپا جائے۔ ہمارا مطالبہ  ہےکہ الیکشن کی تاریخ 22 اکتوبر یا 24 اکتوبر کی جائے، کیوں کہ میچ کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل کم ہو سکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت  کراچی شہر کی ابتر حالت ہے،انفرااسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے،صحت کے حوالے سے بات کی جائے تو اس وقت پورے صوبے میں ڈینگی پھیلا ہوا ہے،اسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے،سندھ کے اسپتال میں بیڈ نہیں مل رہے، سیوریج کا نظام ٹھیک نہیں، جگہ جگہ کچرا پڑا ہوا ہے۔ 300 ارب کا بجٹ ہے۔ فنڈنگ ہوتی ہے لیکن پیسہ کہاں جاتا ہے کچھ معلوم نہیں ہے؟ ۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے 4 ہزار سے زائد ڈینگی کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ہم نے خود ڈینگی کے اسپرے کی مشینیں خریدی ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ حکومت نا اہل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے ، ہمارے نوجوان محفوظ نہیں ہیں۔ہمارے پاس حکومت جیسے فنڈز نہیں۔ این سی او سی کے حوالے سے کورونا میں جو امداد آئی ہمیں سب پتا ہے کہ کیسے وہ  پیسے ہڑپ کرلیے گئے؟۔

بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سے  متعلق وزیر توانائی کے بیان پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ آج پھر کے الیکٹرک  بل سے متعلق خبر آئی ہے  کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ہم سے ختم نہیں کئے گئے ہیں۔ بلکہ آئندہ کے بلوں میں اسے ایڈ کریں گے

انہوں نے مزید کہا کہ  کے الیکٹرک کے خلاف عمران خان، آصف زرداری اور نواز شریف ایک ہوجاتے ہیں۔ کوئی پارٹی کے الیکٹرک کے خلاف بڑا اقدام نہیں کرتی، 22 تاریخ کو کیس لگا ہے،اگر یہ ریلیف عدالت سے بھی نہ ملا تو ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوگا،ہم لوگوں سے مشاورت کر کے کہیں گے کہ وہ بل جمع نہ کروائیں ۔