سیلابی پانی نکالنے کا کام فوج کے سپرد کیا جائے، محمد حسین محنتی

127
the army

کراچی: امیرجماعت اسلامی سندھ وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے مطالبہ کیا ہے کہ شہروں ،گوٹھوں وکھیتوںسے سیلابی پانی کونکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال اوریہ کام فوری طور پر فوج کے سپرد کیاجائے۔

محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ امداد کی تقسیم میں شفافیت اورحقیقی متاثرین تک پہنچانے کویقینی بنانے کے لیے تحصیل سطح پرکمیٹیاں قائم کرکے اس میں سول سوسائٹی،صحافی اورعلمائے کرام کو شامل کیاجائے۔ کاشتکاروں کوآبیانہ وعشرمعاف اوراجناس کی پیداوار اورزراعت کی بحالی کے لیے زمینداروں اورآبادگاروں کو طویل مدت کے غیرسودی قرضے دیئے جائیں۔ اس وقت پوراسندھ پانی میںڈوباہوا ہے،لاکھوں لوگ بے گھرہوکرکھلے آسمان تلے بے یارومددگا پڑے ہیں۔گوٹھ صفہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔معصوم بچے بھوک وبیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا بھی اس موقع پرساتھ موجود تھے۔

ان کا مزیدکہنا تھاکہ وزیراعلیٰ سندھ کایہ کہنا کہ پانی کو نکالنے میں 6ماہ لگیں گے یہ حکومتی ناکامی اورمتاثرین کے زخموں پرنمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔سیم نالے اورنہریں ابل رہی ہیں۔پانے کے دباء کی وجہ سے چھوٹے شہرودیہات ڈوب گئے ہیں جس کی وجہ نہروں ،سیم نالوں وشاخوں کی بھل صفائی کے لیے جورقم رکھی جاتی ہے وہ کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔متاثرین کی امدادکے لیے آنے والا سامان سیاسی بنیادوں پرتقسیم، مارکیٹ میں فروخت یاسرکاری اوروڈیروں کے گوداموں میں بند پڑا ہے۔حکومت نے جو نمائشی ٹینٹ سٹی بنائے بھی ہیں تو وہ کھانے پینے ودیگر بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتے ہیں۔کئی ممالک سے امداد آرہی ہے مگر جا کہاں رہی ہے اسکا کچھ معلوم نہیں ہے کیونکہ متاثرین تو ہرجگہ پریشان بے یارومددگار بیٹھے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الخدمت کے تحت لاڑکانہ، جیکب آباد،ٹھل،سکھر،ٹھٹھہ،شکارپور،لکھی غلام شاہ ،قمبر،جھرک ٹھٹھہ ،حیدرآبادسمیت سندھ کے دیگرمقامات پرقائم ٹینٹ سٹی میں متاثرین کو دووقت کا کھانہ،صاف پانی،بچوں کو تعلیم کے لیے اسکول اوربیماروں کے علاج کے لیے ہسپتال اورمساجد ودینی تعلیم کااہتما ہے۔ضرورت اس مرکی ہے کہ بارش وسیلابی پانی کی شہروں سے نکاسی کرکے معمول کی زندگی بحال ،گھروں،فصلوں،مال ومویشی واملاک کے نقصان کا حقیقی سروے کرکے ان کی بحالی کے لئے فوری امداد ،سیلاب زدہ علاقوں میں مچھرماراسپرے اورڈینگی بخارکی ناپید ادویات کو یقینی بنایاجائے۔