قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

235

لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں اْن کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو اْن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، او ر وہ احکام جو اْن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔(سورۃ النساء:127)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپؐ سے سنا آپؐ فرماتے تھے جو کوئی اللہ کے لیے حج کرے اور شہوت اور گناہ کی باتیں نہ کرے۔ تو ایسا پاک ہو کر لوٹے گا جیسے اس دن پاک تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔ (بخاری)
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جہینہ کی ایک عورت آپؐ کے پاس آئی کہنے لگی میرے ماں نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج کرنے سے پہلے مرگئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کر بھلا بتلا اگر تیری ماں پر کسی کا قرض ہو تو ادا کرے گی (اس نے کہا ضرور) آپؐ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض ادا کرنا تو بہت ضروری ہے۔ (بخاری)