بدترین لوڈشیڈنگ پرجماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کامطالبہ

209

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے کئی وزراء وفاق میں ہیں اورپارٹی کے چیئرمین بھی وفاقی وزیر ہیں،وہ بتائیں کہ کے الیکٹرک کا لائسنس کیوں منسوخ نہیں ہوتا؟تمام حکومتی جماعتیں کے الیکٹرک کو سپورٹ کرتی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ  پولیس کا محکمہ عوام کا محافظ ہوتا ہے لیکن سندھ حکومت نے کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے نہتے عوام پر لاٹھی چار ج اور شیلنگ کروائی، سندھ حکومت کہتی ہے کہ کے الیکٹرک وفاق کا مسئلہ ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  سب سے پہلے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے 16ارب روپے کھمبوں کی قیمت میں اسے فروخت کیا اور پھر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر دوسری بار فروخت کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بدترین لوڈ شیڈنگ،اوور بلنگ،عوام سے لوٹ مار اور معاہدے کے مطابق پیداواری صلاحیت نہ بڑھانے اور ترسیلی نظام کو بہتر نہ کرنے پر کے الیکٹرک کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے، اس کا فارنزک آڈٹ کیا جائے اور ا ن تمام حکمران جماعتوں کو بے نقاب کیا جائے جنہو ں نے کے الیکٹرک کو سپورٹ کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ 24جولائی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات 2020میں ہونے تھے لیکن سندھ حکومت نے ہمیشہ کی طرح سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے، جماعت اسلامی نے چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجا کو خط لکھا اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پٹیشن بھی دائر کی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ  ہم نے واضح اور دوٹوک موقف پیش کیا کہ سندھ حکومت ہمیشہ کی طرح سے اس بار بھی بلدیاتی انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اب بھی الیکشن کمیشن کے مجبور کرنے پر انتخابات کروائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے نہ صرف بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جدوجہد کی بلکہ کراچی کی بلدیہ کو بااختیار بنانے اور بلدیاتی اداروں پر سندھ حکومت کے تسلط کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے 29دن تک تاریخی دھرنا دیا اور سندھ حکومت کو مجبور کیا کہ وہ کراچی کی بلدیہ اور مئیر کو بااختیار بنائیں۔