پولنگ اسٹیشنز سے سامان چھین لیا گیا، کندھ کوٹ میں پولنگ کا عملہ ہی اغوا

243
 پولنگ اسٹیشنز سے سامان چھین لیا گیا، کندھ کوٹ میں پولنگ کا عملہ ہی اغوا

کندھ کوٹ:نواب شاہ اور کندھ کوٹ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ کے دوران مسلح افراد نے پولنگ عملہ اور پولیس اہلکار ہی یرغمال بنالیے۔

کندھ کوٹ کی یو سی درڑ پولنگ اسٹیشن نمبر 28 نہال جعفری سے پولنگ کے عملے کو اغوا کر لیا گیا۔کندھ کوٹ پولیس کے مطابق مذکورہ پولنگ اسٹیشن سے ڈاکو پولنگ کے عملے کے 7 افراد کو اغوا کر کے لے گئے۔

پولیس حکام کے مطابق کچے کے بھیو گینگ نے پولنگ کے عملے کو اغوا کیا ہے، ڈاکو پولنگ کا سامان بھی لے گئے ہیں۔حکوم کے مطابق پولنگ کے عملے کے ساتوں ارکان کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بینظیر آباد میں بھی 3 پولنگ اسٹیشنز پر نامعلوم ملزمان انتخابی عملے سے الیکشن سامان چھین کر فرار ہوگئے۔نواب شاہ کے سوشل سیکیورٹی پولنگ اسٹیشن میں پولنگ کا عمل جاری تھا کہ مسلح افراد دیواریں پھلانگ کر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوے۔

مسلح افراد نے عملے اور پولیس کو یرغمال بنالیا جس کے بعد پولنگ کا عمل معطل ہوگیا۔ اس دوران مسلح افراد نے پولنگ عملے کو تشدد کانشانہ بھی بنایا۔ بعد ازاں مسلح افراد بیلٹ پیپرز اور پولنگ کاسامان اٹھا کر لے گے۔

اس کے علاوہ کندھ کوٹ کی یونین کونسل ددڑ کے پولنگ اسٹیشن ٹوڑی میں بھی مسلح افراد نے فائرنگ کی اور بیلٹ باکس اور انتخابی عملے کو اٹھا کر ساتھ لیگئے۔

دوسری جانب تھرپارکر کے کھٹکری پولنگ اسٹیشن سے بھی 300 بیلٹ پیپرز چوری ہوگئے۔ پولنگ اسٹیشن کے پریزائیڈنگ آفیسر نے کہا کہ یہاں 1200 بیلٹ پیپرز رجسٹرڈ ہیں جب کہ 300چوری ہوگئے ہیں۔

سندھ کے 4 ڈویژنز کے 14 اضلاع میں 9 ہزار پولنگ اسٹیشنز پر بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پولنگ جاری ہے، جہاں 21 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں اترے ہیں جب کہ 900 سے زائد امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔