منکی پوکس وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ، عوام پریشانی کا شکار

2185

فیصل آباد :تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس جہاں دنیا بھر کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کیا ہے وہیں اس حوالے سے پاکستانی شہری بھی پریشان ہیں۔پہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور ایسے افراد میں بھی اس کی تشخیص ہوئی ہے جو کبھی افریقا گئے ہی نہیں۔شہریوں کی بڑی تعداد یہ جاننا چاہتی ہے

کہ کیا یہ وائرس پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے، یہ وائرس ہے کیا اور اس سے بچاوکیسے ممکن ہے وبائی و جلدی امراض کے ماہرین سے بات کی ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے، یہ قریبی تعلق رکھنے والے فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ بیماری اسمال پاکس سے ملتی جلتی ہے،

اس میں جسم پرپانی والے دانے نکل آتے ہیں، اس لیے ہاتھوں کو زیادہ سے زیادہ دھوئیںڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ یہ بات تو طے ہے کہ یہ وائرس میل ملاپ سے پھیلتا ہے، یہ ہوا میں نہیں ہوتا، اس کے پھیلنے کی دو تین وجوہات ہیں، ایک تو یہ وائرس پھیل رہا تھا اور کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، اب سب کی نظریں اس پر ہیں

تو مزید کیسز سامنے آئیں گے۔ماہرمتعدی امراض نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کوئی کیس ہماری نظروں سے نہیں گزرا لیکن جو جلدی امراض کے ماہرین ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس پر نظر رکھیں، اس میں چکن پاکس کی طرح کا مواد ہوتا ہے، یہ اسمال پاکس سے ملتا جلتا ہے، اس میں جسم پر پانی والے دانے بنتے ہیں،

اس لیے اگر ایسا کوئی فرد آئے تو اس کے تمام پہلوں کا جائزہ ضرور لیں۔ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ جو بیماری جانور سے انسان کو منتقل ہوتی ہے اسے زونوٹک ڈیزیز کہتے ہیں، اس میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا یہ آسانی سے انسان سے انسان کو بھی منتقل ہو سکتی ہے یا محدود ہوتی ہے، منکی پاکس محدود پیمانے پر انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس چیچک یا اسمال پاکس کے خاندان سے ہے، دنیا بھر میں 1980 تک ہر انسان کو اسمال پاکس کے بچاؤ کی ویکسی نیشن ہوتی تھی، 1980 کے بعد یہ ویکسین لگنا بند ہوگئی۔ اب ایک ایسی نسل ہے جنہیں یہ ویکسین نہیں لگی، یہ اسمال پاکس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے

جنہیں ویکسین لگتی ہوگی تو ان میں کچھ نہ کچھ قوت مدافعت موجود ہوتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری چھونے اور جمسی تعلق سے پھیلتی ہے، چالیس سال سے یہ بیماری افریقا میں تھی اور اگر یورپ میں کوئی کیس رپورٹ ہوتا تھا تو اس کی ٹریول ہسٹری ہوتی تھی۔ اب جو کیسز امریکا اور یورپ میں رپورٹ ہوئے ہیں ان کی کوئی ٹریول ہسٹری افریقا کی نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ مقامی طور پر پھیل رہا ہے۔