اگر ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو ڈالر مزیدبے قابو ہو جائیگا، ملک محمدبوستان

154

کراچی:فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدرملک محمد بوستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جب بھی معاشی بحران آ یا ہم نے اورسیز پاکستانیوں سے اربوں ڈالر آفیشل چینل کے ذریعے خرید کر حکومت پاکستان کو فراہم کیئے۔ پاکستان نے جب مئی 1998 میں دھماکہ کیا تھا تو اس وقت اقوام عالم نے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگادیں

جس ے پاکستان کے ریزرو صرف 500 ملین ڈالر رہ گئی اور روپیہ 44 روپے فی ڈالر سے بڑھ کر 67 روپے ہوگیا۔ 100 روپے فی ڈالر ہوجانے کی پیشنگوئی کی جارہی تھی، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی خبریں اخبارات میں چھپ چکی تھیں،اسوقت میں نے بحیثیت صدر فاریکس ایسوسی ایشن حکومت کو اپنی خدمات پیش کیں۔ 2 سال میں ہم نے حکومت کو اورسیز پاکستانیوں سے آفیشل چینل کے ذریعے 8 ارب ڈالر خرید کر انٹر بینک کے ذریعے حکومت کو فراہم کیئے اور ڈالر کا ریٹ 67 سے کم کر کے 54 روپے تک لیکر آئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج پھر حکومت پاکستان کو وہی صورتحال کا سامنا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور بے تحاشہ غیرملکی قرضے لینے کی وجہ سے معاشی نظام تباہی کے کنارے پر ہے اور روپیہ گزشتہ 1 ماہ سے مسلسل گر رہا ہے، اس حکومت نے جب حلف اٹھایا تھا تو ڈالر 189 سے کم ہوکر 181 ہو گیا اس کے بعد جب سے عمران خان نے 20 مئی کو اسلام آد دھرنے کا اعلان کیااور ان کے ساتھ شیخ رشید کی طرف سے جب یہ بیان آیا کہ اگر عمران خان کے مطالبے نہ مانے گئے

تو ملک میں خون ریزی یا سول وار کا خطرہ ہے جس وجہ سے غیرملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر واپس لے جارہے ہیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے بیرونی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے  ٹی بلز  میں بالکل سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے پاکستان کے ریزرو گرنا شروع ہو گئے ہیں

تاہم پاکستانی روپیہ کی قیمت اور رزیرو بڑھانے میں ایکسچینج کمپنیوں نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ مقامی ہوٹل میں پاکستانی روپے کی مضبوطی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں میڈیا سے گفتگو میں ملک محمدبوستان نے کہا کہ گزشتہ 1993 سے لیکر 2022 تک تقریباَ 60 ارب ڈالر حکومت پاکستان کو انٹر بینک کے ذریعے فراہم کئے گئے ہیں،

اب بھی ہم حکومت سے رابطے میں ہیں،میں نے گورنر اسٹیٹ بینک اور زیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے درخواست کی ہے کہ کمرشل بینکوں نے انٹربینک میں گزشتہ 8 ماہ میں ڈالر کا ریٹ0 4 روپے بڑھا دیا، اگر انٹر بینک ریٹ بڑھانے کی بجائے کم ہونا شروع ہوجائے تو فری مارکیٹ اور انٹربینک میں جو ڈالر کاریٹ ہے وہ بہت جلد 193 سے کم ہوکر 180 کا ہوسکتا ہے۔ اس وقت سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے، اس کے ساتھ تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے

جو کہ گزشتہ 10ماہ میں تقریباََ 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اگلے 2ماہ میں بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک جاسکتا ہے،ابھی بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو ڈالر بے قابو ہو جائیگا، حکومت کو فوری طور پر اپنی ماہانہ امپورٹ جو کہ 6.25 ارب ڈالر ہے اسے کم کر کے کم از کم 5 ارب ڈالر کیا جائے،اگر حکومت امپورٹ بل کم کرکے 12 ارب ڈالر بچالیتی ہے

تو  اگلے سال حکومت کو تقریباََ 12 ارب ڈالرکے قرضے ادا کرنے ہیں،قرضے لیئے بغیر وہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیگی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ایک سال کے لیئے آٹولون بند کر دیا جائے، اس وقت تقریباََ 2کڑوڑ سے زیادہ وہیکل، موٹر سائیکل کی تعداداستعمال میں ہے جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی ڈیمانڈ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے،

میرے اندازے کے مطابق تقریباََ 2 سے 3 ارب کیش ڈالر لوگوں نے گھروں اور لاکروں میں رکھے ہوئے ہیں، وہ پاکستانی روپے میں تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔، 2008 سے پہلے اکنامک ریفارم ایکٹ کے تحت ملک بھر میں بڑی تعداد میں بغیر لائسنس کے منی چینجر کے شاپس ہوتی تھیں،اْس وقت وہ بغیر کسی KYCکے خریدوفروخت کرتے تھے،اسٹیٹ بینک کے مطابق لائسنس یافتہ منی چینجر 10 ہزار یا اس سے زیادہ کوئی بھی فارن کرنسی خریدتا تھا تو اْس کی صرف KYC کرتے تھے، شناختی کارڈ نہیں لیتے تھے، اس قانون کے تحت لوگوں نے 1993 سے لیکر 2008 ان 15 سالوں میں اربوں ڈالر مارکیٹ سے خرید کر زیادہ تر لوگوں نے بیرون ممالک لے جاکر وہاں کے بینکوں میں جمع کرادیئے تھے،

کچھ نے ابھی تک اپنے پاس کیش کی صورت میں رکھے ہوئے ہیں اب وہ KYC کرانے کے لیئے تیار ہیں اور بغیرشناختی کارڈ کے فروخت کرنا چاہتے ہیں،ایف اے ٹی ایف نے 15 ہزار یا اس سے زیادہ پر شناختی کارڈلینے  اوراس سے کم خریداری پر KYCکرنے کو کہا ہے، اگر اسٹیٹ بینک اجازت دے تو ایکسچینج کمپنیاں بڑی تعداد میں یہ FC  اور ڈالر پبلک سے خرید کر حکومت کو دے سکتے ہیں،،اربوں ڈالر کی کرپٹو کرنسی لوگوں نے خریدی ہوئی ہے جو کہ وہ بیرون ممالک فروخت کرتے ہیں،

پاکستان میں کوئی لیگل چینل فراہم کر کے انہیں اپنے سسٹم میں شامل کرلیں،کمرشل بینکوں کو پابند کیا جائے کہ جتنے ڈالر خریدیں اْتنے ہی ڈالر فروخت کریں۔ فی الحال فارورڈ فروخت نہ کریں، ضروری اشیاء کے علاوہ تما م امپورٹ پر 100فیصد مارجن لیا جائے، ایکسپوڑر لمٹ 50فیصد سے بڑھا کر 70فیصد مستقل بنیاد پر کر دیا جائے، اس سے ایکسچینج کمپنیوں کی 20فیصد، FC کی ایکسپورٹ بڑھ جائیگی۔ اور مْلک میں 20فیصد ڈالر زیادہ واپس آئیں گے۔

ملک محمدبوستان نے پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوانوںنے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے ملک میں امن بحال کر کے معیشت کو مستحکم کیا ، آج پاکستان کے دشمن عوام کے دلوں میں فوج کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے بدگمانی پیدا کر کے فوج کے سامنے کھڑا ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں،

ہمارے سامنے شام، عراق اور لیبیا کی مثال موجودہے،وہاں کی عوام کو اپنے اداروں کے خلاف کھڑا کیا گیا جس وجہ سے وہ ادارے بھی تباہ ہوئے اور ساتھ ساتھ ملک بھی تباہ ہوگئے،ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ پاکستان میں سول وار کرواکر پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا جائے تاکہ وہ فوج رکھنے کے قابل ہی نہ رہیں،

اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کیا جاسکے۔ آج اگر ہم نے اپنے عسکری اداروں کا ساتھ نہ دیا تو ہندوستان ہمارا بھی  یوکرائن جیساحال کریگا،میری تمام سیاستدانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے تمام سیاسی اختلافات بھلاکر ملک کا اور اپنے عسکری اداروں کا دفاع کریں اورہم پاک فوج کو کاروباری برادری کی طرف سے اور پاکستان قوم کی طرف سے یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم دشمن کی سازش کو ناکام بنائیں گے اور اس چال میں نہیں آئیں گے۔