پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا تمبو میں جلسہ عام سے خطاب 

183

نصیرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ27فروری کو کراچی سے نکلیں گے، اسلام آباد جائیں گے، جمہوریت کا انتقام ہوگا کہ سلیکٹڈ کو جمہوری طریقے سے ہٹائیں، گھبرانے کا وقت آچکا، حساب دینے کا وقت آچکا، عمران خان سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اب پارلیمان کا اعتماد بھی اٹھنا چاہیے، کٹھ پتلی کو پیغام پہنچا چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی میدان میں اتر رہی ہے، چھین رہا ہے کپتان روٹی کپڑا اور مکان، خان صاحب نے آپ کے معاشی حقوق، آپ کے ووٹ، آپ کے پیٹ پر ڈاکا مارا ہے، ہم برداشت نہیں کرسکتے، ہم نے اعلان جنگ کردیا ہے،ہم اپنا حق چھیننا جانتے ہیں، بلوچستان کے عوام ہمارا ساتھ دیں گے، ہمارے مسائل کا حل جمہوری جدوجہد ہے، ہم ہتھیار نہیں ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

اتوار کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی تحصیل تمبو میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد کے 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے موجودہ سلیکٹڈ حکومت آئی ہے پورے ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا تھا کہ مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی ، کپڑا اور مکان لیکن آج صورتحال یہ ہے کپتان روٹی، کپڑا اور مکان چھین رہا ہے۔بلاول نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان نے آپ کے معاشی حق پر ڈاکا ڈالا ہے، آپ کے ووٹ پر، آپ کی جیب پر، آپ کے پیٹ پر ڈاکا مارا ہے، ہم نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہےکہ ہم 27 فروری کو کراچی سے نکلیں گے ، ہم اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پورے ملک کی طرح بلوچستان کے عوام بھی ظالم، نا لائق، نا اہل اور ناجائز حکمرانوں کے خلاف باہر نکلیں گے اور اس ظالم حکومت کا خاتمہ کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جدوجہد اس ملک، پاکستان کے عوام اور نصیر آباد کے عوام کے لیے 3 نسلوں پر مشتمل ہے، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پورے ملک سمیت نصیر آباد کے عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان کی خدمت کرنا اور اس ملک کو ترقی دینا شہید بے نظیر بھٹو کا خواب تھا، اب اس خواب کو ہم نے پورا کرنا ہے اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کرنی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا آج سندھ اور بلوچستان میں عوام کو پانی کے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی سیاسی جماعت نے پانی کے مسائل پر توجہ نہیں دی، اگر پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہوگی، عوام کے تعاون سے ملنے والی حکومت کے پہلے دن نصیر آباد کے عوام کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک میں کچھ قوتیں سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہیں، مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ عوام آپس میں لڑتے رہیں مگر ہم متحد ہو کر عوام کے حقوق کے لیے جد وجہد کریں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مل کر جد وجہد کریں گے تو سندھ اور بلوچستان کو پانی ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمھتے ہیں کہ کچھ طاقت ور لوگ اور موجودہ حکومت عوام اور صوبوں کے حق پر ڈاکا ڈالنا چاہتی ہے، ان قوتوں کو واضح اور دو ٹوک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ جو 1973 کا آئین ہے یہ عوام کو ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، یہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے، اس آئین کے مطابق ہر صوبے اور ہر شہری کا اپنا اپنا حق ہے، ہم کسی کو اس آئین اور عوام کے حقوق سے کھلواڑ کرنے اجازت نہیں دیں گے۔

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے تھرپارکر اور اسلام کوٹ کے عوام کو کوئلے کے منصوبے میں حصہ دیا ہے، جب کوئلے کے منصوبوں سے منافع ہوگا تو ہم انہیں مزید فوائد منتقل کریں گے اور جن علاقوں میں یہ منصوبے جاری ہیں وہاں غریب لوگوں کے لیے ہم نے بجلی مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم بلوچستان کے عوام کو نصیر آباد کے عوام کو ان کا حق دیں گے۔ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے، ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں،ہم اپنا حق چھیننا جانتے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا اگر پاکستان پیپلزپارٹی لاڑکانہ میں ایس آئی یو ٹی، این آئی سی وی ڈی بناسکتی ہے، جیکب آباد میں میڈیکل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، خیبر پور میں گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس بناسکتے ہیں جہاں دل کا مفت علاج ، کڈنی کا مفت علاج ہو ، کینسر کا ، بون میرو ٹرانسپلانٹ کا مفت علاج ہوتا ہے، ایسے ہی ہم چاہتے ہیں کہ ہم بلوچستان میں بھی ایسے عالمی معیار کے ادارے بنائے جائیں جہاں آپ بغیر کسی کارڈ کے اپنا مفت علاج کروا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنا ظلم پیپلز پارٹی نے برداشت کیا اتنا کسی اور جماعت نے برداشت نہیں کیا، شہید بے نظیر کے والد کو ، میرے نانا کو پھانسی گھاٹ پر شہید کیا گیا، شہید بے نظیر بھٹو کے دو بھائیوں کو شہید کیا گیا تو انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، پھر جب بے نظیر بھٹو شہید کو راولپنڈی میں بم دھماکے میں شہید کیا گیا تو صدر آصف زرداری نے بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور کہا کہ جمہوریت بدترین انتقام ہے۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا آج دہشت گردی ملک میں پھر سر اٹھا رہی ہے، میں ملک اور بلوچستان کے نوجوانوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ میں بھی نوجوان ہوں، میں بھی ناراض ہوں، میں نے بھی بہت ظلم برداشت کیے ہیں مگر ہمارے اوپر کیے جانے والے مظالم کابدلہ لینے کا طریقہ ہتھیار اٹھانا نہیں ہے بلکہ صرف جمہوریت ہی ہمارے مسائل کا حق اور ہمارے اوپر کیے گئے مظالم کا بدلہ ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ہماری سیاست کے پانچ اصول ہیں، اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست ہے، مساوات ہماری معیشت ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور شہادت ہماری منزل ہے، اگر آپ ہمارے ان پانچ اصولوں سے اتفاق کرتے ہیں تو آئیں ہمارا ساتھ دیں، ہم اس کٹھ پتلی حکومت کو پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی جمہوری جدوجہد کے لیے میدان میں اتر چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بزرگوں ، نوجوانوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، اب اس حکومت کے گھبرانے کا وقت ہوچکا ہے، عوام کا اعتماد موجودہ حکومت پر اٹھ چکا ہے، ہم اس حکومت کے خاتمے کے لیے جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں اور پارلیمان کے ذریعے اس حکومت کو گھر بھیجیں گے۔