کرپشن میں اضافہ

296

وزیراعظم عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے قوم کے سامنے یہ موقف پیش کیا تھا کہ پاکستان کے قومی مسائل میں اقتدار کے مناصب پر فائز عہدیداروں کی بدعنوانی سب سے بڑا مسئلہ ہے، بدعنوانی کے خاتمے اور احتساب کا نعرہ لگا کر پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی اور 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ اپنے پہلے دور اقتدار کے تین برس سے زائد گزار چکے ہیں۔ تیسرے برس عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تین برسوں میں پاکستان میں بدعنوانی اور رشوت خوری کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بیان کردہ اصطلاح میں کرپشن مزید 16 درجے بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018ء میں جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تھی تو پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس میں 117 واں نمبر تھا جو اب گر کر 140 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ تیار کرنے کے طریقۂ کار اور مقاصد کے بارے میں ماہرین کے درمیان بہت سارے تحفظات بیان کیے جاتے ہیں۔ خود کرپشن کی کمی اور بیشی کا کیا مطلب ہے، یہ بھی واضح نہیں، اس لیے کہ ایک آدمی سو روپے رشوت لیتا ہے دوسرا دس ہزار لیتا ہے تو ایک کو کم اور دوسرے کو زیادہ کرپٹ نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ دونوں ایک ہی سطح کے بدعنوان قرار پائیں گے۔ اس رپورٹ کے مندرجات میں بیان کردہ دعوئوں پر اعتراضات کے باوجود اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کا ریاستی و سیاسی نظام اتنا بدعنوان ہوچکا ہے کہ علاج کسی کو نظر نہیں آتا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو حکومت بدعنوانی کے خاتمے اور طاقتور طبقے کے شفاف احتساب کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آئی تھی وہ احتساب کے بارے میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اجرا سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے خود استعفا دیا ہے یا وزیراعظم نے ان سے استعفا لیا ہے۔ اس کے بارے میں سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے اور شفاف احتساب میں ناکامی کا منظرنامہ عبرت کا مقام ہے۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح بلاامتیاز احتساب کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور اِسے سیاسی نعرے بازی کا حصہ بنائے رکھا۔ جس طرح ٹرانسپیرنسی عالمی ادارے یورپ اور امریکا کے ان ممالک کی حقیقت بیان نہیں کرتے جو اپنے بینکوں میں بدعنوانی سے حاصل کی ہوئی دولت جمع کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں تیسری دنیا کے حکمرانوں کو بدعنوان بنانے میں عالمی سرمایہ داروں کا سب سے بڑا کردار ہے۔ انہیں حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس طرح حکومتوں پر دبائو ڈال کر اپنے مفاد میں فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ بدعنوانی اور حرام مال کا زہر کس حد تک قوم کے جسم میں سرایت کرچکا ہے۔ بدعنوانی اور احتساب کے نعرے کا شور 90ء کی دہائی سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ اس شور شرابے کے باوجود پاکستان کے سماج اور طاقت و اختیار کے ایوانوں میں اتنی ہی بدعنوانی بڑھتی رہی اور اس عمل میں سیاست داں، بیوروکریٹ، جرنیل، جج، کارپوریٹ کلچر سے تعلق رکھنے والے، ذرائع ابلاغ سے متعلق سب ہی اپنے پیٹوں میں مال حرام بھرتے جارہے ہیں جس نے خطرناک سیاسی بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ایک طرف حکمراں طبقے کی پرتعیش زندگی ہے دوسری طرف اب ایک عام غریب آدمی کے لیے ماہانہ راشن پورا کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ اسی کرپٹ اور بدعنوان ٹولے کی وجہ سے جو زندگی کے ہر شعبے میں گھس چکا ہے اس نے قومی خود مختاری، آزادی و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکا، یورپ اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے حکمرانوں کی بے بسی اس کی شہادت دے رہی ہے۔ اب مسئلہ چند افراد اور گروہوں کی کرپشن اور بدعنوانی کا نہیں رہ گیا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی نے ہر سطح پر مجرموں اور مافیائوں کو طاقتور بنادیا ہے۔ ان تین برسوں میں توانائی مافیا، شوگر مافیا، آئل مافیا، گیس مافیا جیسے طبقات کی لوٹ مار سامنے آئی ہے۔ اس نے قوم کو آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔