نظام مصطفیﷺ کے نفاذ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، رہنما جماعت اسلامی

305

کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر مولاناعبدالکبیر شاکر نے کہا ہے کہ نظام مصطفیٰؐ کا نفاذ کوئی چوائس نہیں بلکہ یہ ایمان کا حصہ ہے۔

  خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ سے عشق و محبت کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنائیں اور نظام مصطفیﷺ کے نفاذ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں ۔پاکستان عالم اسلام کا دھڑکتا دل ہے جس کو کرپٹ حکمرانوں سے پاک کرنا اور دیانتدار قیادت کو برسر اقتدار لانا ایک دینی اور آئینی فریضہ ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے مدارس کے طلباء اورعلماء کرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں نظام مصطفی ﷺ کی جدوجہد کررہے ہیں اور آپ ﷺ سے عشق و محبت اور عقیدت کے اظہار کا یہی بہترین طریقہ ہے ۔امت کا یہ فرض ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے نکل کر غلبہ دین کیلئے متحد ہوجائے ،انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ پر درود و سلام کی محافل کا انعقاد باعث خیر و برکت ہے مگر امت کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے نظام کو غالب کرنے کی جدوجہد کی جائے ۔ قوم احتساب اور حساب کتا ب چاہتی ہے جس میں کسی کو استثناء نہیں ۔قوم چاہتی ہے کہ عدالتیں بڑے چوروں کو پہلے پکڑیں مگر ہوتا اس کے بالکل بر عکس ہے۔

چھوٹی مچھلیاں دھر لی جاتی ہیں اور مگر مچھوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جماعت اسلامی سب کا بلاتفریق رنک ونسل منصفانہ احتساب چاہتی ہے ۔ہم لٹیروں اور کرپٹ ٹولے کے خلاف فیصلہ چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ عدالت میں جانے والے چوکیدار یا وزیر اعظم سے ایک جیسا سلوک ہو اور عدالت کی نظر میں کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو ،مجرموں کو وی آئی پی کا درجہ دینے سے انصاف کا قتل عام ہوتا ہے۔

جو عدالت یوسف رضا گیلانی کو سزا دے سکتی ہے وہ نواز شریف کو کیوں نہیں دے سکتی، اگر عدالتوں نے فیصلے نہیں کرنے تو وہ خود بتائیں کہ انہیں کرنا کیا ہے اور پھر جو عدالتیں عوام کو انصاف نہ دے سکیں بہتر ہے انہیں تالہ لگا دیا جائے ۔اگر پانچ ،چھ ہزار بڑے چوروں کو جیلوں میں بند کردیا جائے، ان کی دولت بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور ان کے پاسپورٹ چھین کر انہیں باہر بھاگنے کا موقع نہ دیا جائے تو ایک ہفتہ کے اندر نہ صرف جرائم رک جائیں گے بلکہ قوم میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی۔