پارلیمانی پارٹی اجلاس : وزیر اعظم اور وزیر دفاع میں تلخ جملوں کا تبادلہ ، بلیک میل نہیں ہوں گا ، عمران خان

115

 

اسلام آباد(آن لائن )وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ وزیراعظم اور وزیر دفاع پرویز خٹک آمنے سامنے آگئے، پرویز خٹک نے کہا آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ پرویز خٹک کی اس قسم کی گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔ اجلاس میں رکن اسمبلی نور عالم نے بھی سخت سوالات کیے اور کہا کہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی کے ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟۔ جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ بہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے ۔ نور عالم نے دوبارہ کہا کہ ہمیں حلقوں میں لوگ کہتے ہیں گیس بجلی پانی دیں، کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس پانی بجلی ملے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہم وفاقی وزرا کے مابین تلخی گیس کے معاملے پر ہوئی، وزیر دفاع غصے میں آ گئے اور اٹھ کر اجلاس سے چلے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو اجلاس میں واپس بلوایا تو اسٹاف پرویز خٹک کو ڈھونڈتا رہا تاہم پرویز خٹک کچھ دیر بعد دوبارہ اجلاس میں آ گئے۔