حُسن ِ اخلاق

216

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کے اخلاق کے بارے میں فرمایا: ’’اور بے شک آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں‘‘۔ (القلم: 4)
حْسنِ اخلاق کے بارے فرمانِ رسولؐ
1۔امام مالکؒ سے روایت ہے کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘۔ (موطا امام مالک)
’مکارم اخلاق‘ سے مراد وہ بہترین اخلاقی تصورات، اصول اور اوصاف ہیں، جن پر ایک پاکیزہ انسانی زندگی اور ایک صالح انسانی معاشرے کی بنیاد قائم ہو۔
2۔ دوسری روایت: ’’مجھے تمام اخلاقی اچھائیوں کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘۔ (السنن الکبرٰی، البیہقی)
’مکارم اخلاق کی تکمیل‘ سے مراد یہ ہے کہ نبی کریمؐ سے پہلے انبیاء اور ان کے صالح پیروکار مختلف اوقات میں اور مختلف قوموں اور ملکوں میں اخلاقی فضائل کے مختلف پہلوئوں کو اپنی تعلیم سے نمایاں کرتے رہے اور اپنی عملی زندگی میں ان کے بہترین نمونے بھی پیش کرتے رہے، مگر کوئی ایسی جامع شخصیت اس وقت تک نہ آئی تھی کہ جس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں سے متعلق اخلاق کے صحیح اصولوں کو مکمل طور پر بیان کیا ہو۔ پھر ایک طرف خود اپنی زندگی میں ان کو برت کر دکھایا ہو اور دوسری طرف ایک سوسائٹی اور ریاست کا نظام بھی انھی اصولوں کی بنیاد پر بنایا ہو اور چلا کر دکھایا ہو۔ یہ کام باقی تھا جسے انجام دینے ہی کے لیے نبی آخرالزماں محمد مصطفیٰؐ بھیجے گئے تھے۔
نبی کریمؐ نے اس حدیث میں خود مکارم اخلاق کی تکمیل کو اپنی بعثت کا اصل مقصد قرار دیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ مکارم اخلاق کی تکمیل نبی کریمؐ کا کوئی ضمنی کام نہیں تھا کہ آپؐ کا مشن تو کچھ اور ہو اور ضمناً آپؐ نے یہ کام بھی کردیا ہو، بلکہ دراصل یہ وہ اہم کام ہے جس کی انجام دہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مبعوث فرمایاتھا۔ ایک حدیث میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے نبی کریمؐ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں بتایا تھا کہ ’’حضور کا اخلاق قرآن تھا‘‘۔ (مسنداحمد)
انفرادی اخلاق
1۔ضبط نفس: سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’پہلوان وہ نہیں ہے جو (حریف کو میدان میں) پچھاڑ دے، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے‘‘۔ (مسلم)
ابوہریرہؓ نے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریمؐ سے درخواست کی کہ مجھے نصیحت کیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کرو‘‘۔ یہ بات آپؐ نے بار بار فرمائی: ’’غصہ نہ کرو‘‘۔ (بخاری)
2۔ عفو وحلم: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے اپنی ذات کے معاملے میں کسی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ کی حرمت (شعائر اللہ یا حدود اللہ) پامال ہوتیں تو آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے۔ (بخاری)
سیدنا انسؓ دس سال تک نبی کریمؐ کی خدمت کرتے رہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے کبھی مجھے نہیں ڈانٹا، نہ یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا، نہ یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا۔ (مسلم)
3۔وسعتِ ظرف: ابوالاحوص جشمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ انھو ں نے کہا کہ میں نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا: اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں اور وہ میری ضیافت و مہمانی کا حق ادا نہ کرے اور کچھ عرصے کے بعد اس شخص کا گزر میرے پاس سے ہو تو کیا میں اس کی مہمانی کا حق ادا کروں یا اس کی (بے مروتی اور روکھے پن) کا بدلہ لے لوں؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ تم اس کی مہمانی کا حق ادا کرو‘‘۔ (صحیح ابن حبان)
4۔حیا: سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’حیا ایمان ہی کی ایک شاخ ہے‘‘۔ (مسنداحمد)
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمھارے ساتھ وہ ہیں جو تم سے کبھی جدا نہیں ہوتے اِلا یہ کہ رفع حاجت یا صنفی تعلق (میاں بیوی کے فرائض زوجیت) قائم کرنے کا موقع ہو۔ ان (فرشتوں) سے شرمائو اور ان کا احترام کرو‘‘۔ (ترمذی)
موطا امام مالک کی ایک حدیث ہے: ’’ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے۔ اسلام کا بنیادی وصف حیا ہے‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی)
5۔تواضع و انکساری: سیدنا عمرؓ نے ایک بار منبر پر سے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تواضع وانکساری اختیار کرو۔ اس لیے کہ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے: ’’جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے، حالانکہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں بڑا ہے۔ اور جس نے تکبر کیا، اسے اللہ تعالیٰ گرا دیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا ہے، حالاںکہ وہ خود اپنے آپ کو بڑا خیال کرتا ہے، یہاں تک وہ ان کے سامنے کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتا ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ)
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپؐ کے پیچھے دو آدمی چلتے ہوئے دیکھے گئے ہوں۔ (ابو داؤد، مشکوٰۃ) یہ نبی کریمؐ کی تواضع و انکساری کا حال تھا۔
6۔شہرت سے پرہیز: سیدنا سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ متقی، غنی اور گمنام بندے کو پسند کرتا ہے‘‘۔ (مسلم)
اس حدیث میں غنی کے معنی خود دار اور قناعت پسند کے بھی لیے جاسکتے ہیں اور اس کے معنی خوشحال کے بھی ہوسکتے ہیں۔ الخفی سے مراد ایسا شخص ہے جو شہرت اور ناموری کا بھوکا نہ ہو۔
7۔قناعت: نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جو اسلام لایا اور اسے گزارے کے مطابق روزی میسر آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی دی ہوئی روزی پر قناعت کی توفیق بخشی تو وہ فلاح و کامرانی سے ہم کنار ہوگیا‘‘۔ (مسلم، مشکوٰۃ)
8۔میانہ روی: نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’حسن سیرت، بردباری اور میانہ روی، نبوت کے اجزا میں سے چوبیسواں حصہ ہے‘‘۔ (ترمذی) ایک اور حدیث ہے: ’’اخراجات میں میانہ روی سے معاشی مسئلہ نصف رہ جاتا ہے‘‘۔ (شعب الایمان، البیہقی)
9۔مستقل مزاجی: سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’دین کے کاموں میں سے پسندیدہ کام وہ ہے جس پر کرنے والا پابندی کرے اور مستقل مزاجی دکھائے اگرچہ تھوڑا ہو‘‘۔ (مسلم) استقلال کے ساتھ تھوڑا کام نتائج کے لحاظ سے بہتر ہے کہ وقتی جوش کے تحت ہنگامی کام کر ڈالے اور پھر خاموش ہوجائے‘‘۔
10۔فیاضی: سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ اور اسماء بنت ابوبکرؓ سے بڑھ کر فیاض عورتیں نہیں دیکھیں۔
11۔امانت و دیانت: سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’چار چیزیں تمھیں میسر ہوں تو دْنیا کی کسی چیز سے محرومی تمھارے لیے نقصان دہ نہیں ہے: 1۔امانت کی حفاظت 2۔راست گفتاری 3۔خوش خلقی اور 4۔روزی میں پاکیزگی‘‘۔ (مسند احمد)
12۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جو تمھارے پاس امانت رکھے، اسے اس کی امانت ادا کردو، اور جو تم سے خیانت کرے، تم اس سے خیانت نہ کرو‘‘۔ (ترمذی)
اللہ تعالیٰ ہمیں حْسنِ اخلاق کی اہمیت کو سمجھنے، مکارم اخلاق کی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور رسول اکرمؐ کی احادیث کی روشنی میں بہترین انفرادی اخلاق کو اپنانے اور اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
nn