کرنسی بحران سے نمٹنے کیلیے ترک و قطری صدر ملاقات، کرنسی تبادلے کے معاہدے میں توسیع

207

قطر اور ترکی نے اپنے مرکزی بنکوں کے درمیان کرنسی کے تبادلے کے معاہدے میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے  پانچ ارب ڈالر سے بڑھا کر پندرہ ارب ڈالر کردیا ہے۔اس اقدام سے ترکی کو درپیش کرنسی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی

یہ اعلان ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے دورۂ دوحہ کے موقع پرکیا گیا جہاں انھوں نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

کرنسی تبادلے کا یہ معاہدہ 2018ء میں طے پایاتھا اور اس میں مئی 2020ء میں پہلی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔اس کی مجموعی حد ترک لیرا اور قطری ریال کے مساوی 5 ارب ڈالرسے بڑھا کر 15 ارب ڈالر کردی گئی تھی۔

ترکی میں گذشتہ ہفتے افراط زر کی سالانہ شرح 20 فی صد سے بھی بڑھ گئی اور یہ گذشتہ تین سال میں سب سے زیادہ ہے۔ترکی میں لیرا کی قدرمیں کمی سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، رواں سال کے آغاز سے لیرا کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 45 فی صد سے زیادہ گرچکی ہے۔

ترکی کا کرنسی بحران اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید ہوچکا ہے۔اس کا تجربہ ترکی کو 2018ء میں اس وقت ہوا تھا جب اس نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کردیے تھے۔

امریکا کے قریبی اتحادی ترکی اور قطر حالیہ دنوں میں اقتصادی اور سیاسی شراکت دار بن گئے ہیں۔صدر ایردوآن کی حکومت نے 2017 ء میں چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے دوران میں دوحہ کی حمایت کی تھی اور بالخصوص ان الزامات پر قطر کی حمایت کی تھی جو اس کے خلاف بنیاد پرست اسلام پسندوں کی حمایت کے ضمن عاید کیے گئے تھے۔تاہم اس نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔اس کے علاوہ قطر خلیجی عرب ممالک کے سخت حریف ایران کے بھی بہت قریب آگیا تھا-