اومیکرون تیزی سے پھیلنے والا لیکن کم خطرناک وائرس ہے ،طبی ماہرین

160

جنوبی افریقا کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نئے ویرینٹ کی اب تک کوئی شدید علامات سامنے نہیں آئیں اور اس سے متاثرہ افراد میں کورونا کی ہلکی نوعیت کی علامات دیکھی گئیں ہیں جبکہ کوئی ہلاکت کا کیس تاحال رپورٹ نہیں ہوا.

امریکا کے معروف امیونولوجسٹ انتھونی فوکی نے اپنے اس جائزے کا اعادہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔ صدر جو بائیڈن کے طبی مشیر کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اومیکرون ڈیلٹا سے مزید بدترنہیں ہے۔

دوسری جانب جرمن وائرولوجسٹ اور حکومتی مشیر کرسٹیان ڈروسٹن کے مطابق نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور شاید اس کے لیے ویکسین کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت پڑے۔ کرسٹیان  کے مطابق ہم اومیکرون کے لیے نئی ویکسین اپریل تک لانے کے قابل ہوجائیں گے۔

جرمنی کے اگلے متوقع وزیر صحت اور وبائی امراض کے ماہر پروفیسر کارل لوٹر باخ کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اومی کرون کرسمس کا تحفہ ہے اور یہ عالمی وبا کے خاتمے کی رفتار تیز کردے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اومی کرون میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہیں، 32 تبدیلیاں تو صرف اس کے اسپائیک پروٹین میں ہیں جو ڈیلٹا سے دوگنا ہیں اور اب تک متاثرہ مریضوں کا جو ڈیٹا سامنے آرہاہے اس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اومی کرون نے خود کو اس طرح ڈھال لیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر تو کرسکتا ہے لیکن اس کے مہلک اثرات میں کمی آگئی ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کے  متعدی امراض کے ماہر پروفیسر پال ہنٹر کہتے ہیں کہ اومی کرون کی شدت زیادہ نہ ہونے کا نظریہ درست نظر آتا ہے لیکن ممکنہ طور پر اس کی وجہ وائرس کی تبدیلی نہیں بلکہ پچھلے ویرینٹس سے بڑے پیمانے پر ہونے والے انفیکشنز  اور ویکسینیشن مہم ہے جو اس نئے ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

ماہرین صحت کافی عرصے سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ شاید کورونا وائرس کبھی ختم نہ ہو تاہم گمان ہے کہ  یہ اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہوا محض زکام کی وجہ بننے والے وائرس کی طرح  رہ جائے۔